روس کا "جنیوا” لائن میں داخلہ دستاویزات میں ردوبدل کا باعث
شمالی شام میں امریکی بکتر بند گاڑیاں ترکی منصوبوں میں رکاوٹ کا باعث انقرہ: سعيد عبد الرازق کل روس کا "جنیوا” لائن میں داخلہ دستاویزات میں ردوبدل کا باعث بنا، جبکہ شامی وفود نے "دہشت گردی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کی اولین ترجیح کو ایجنڈے میں شامل کرنے اور اس کے […
شمالی شام میں امریکی بکتر بند گاڑیاں ترکی منصوبوں میں رکاوٹ کا باعث

انقرہ: سعيد عبد الرازق
کل روس کا "جنیوا” لائن میں داخلہ دستاویزات میں ردوبدل کا باعث بنا، جبکہ شامی وفود نے "دہشت گردی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کی اولین ترجیح کو ایجنڈے میں شامل کرنے اور اس کے علاوہ دیگر موضوعات کی تجویز پیش کی جس میں قرار داد (2254) بھی شامل ہے۔ اس طرح سے بھرپور انداز کے ساتھ وفود نے گیند کو اقوام متحدہ کی طرف سے مقرر کردہ ثالث سٹیفن ڈی مستورا کے کورٹ میں پھینک دی تھی۔
تاہم، اقوام متحدہ کے ایلچی اسٹیفن ڈی مستورا نے محسوس کیا کہ دہشت گردی، جنگ بندی اور انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی "آستانہ” اجلاسوں کے ساتھ خاص ہے، جس کی نگرانی روس، ترکی اور ایران کر رہا ہے، جبکہ "جنیوا” (اجلاس) سیاسی مسائل کے ساتھ خاص ہے۔ سپریم کمیشن کے وفد کے ترجمان نے روسی نقطۂ نظر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ "دہشت گردی کا موضوع مذاکرات کا محتاج نہیں ہے”، حکومتی وفد اسے "طوالت” دے کر اس کا استحصال کر رہا ہے۔
دوسری جانب ترکی کے صدر رجب طیب اردگان اور واشنگٹن کے مابین شمالی شام میں "داعش” کے گڑھ الرقہ کو آزاد کرانے کے لئے کرد افواج کو شامل کرنے پر ہاہمی اختلافات جاری ہیں۔ جیسا کہ واشنگٹن نے منبج کے مضافات میں بکتر بند گاڑیاں تعینات کر دی ہیں، جس سے شہر کو دوبارہ حاصل کرنے کے لئے ترکی کی حمایت یافتہ "فرات کی ڈھال” نامی فورسز سے متعلق ترک منصوبے میں رکاوٹ آگئی ہے۔