سنجار میں کردیوں کے مابین کشمکش
موصل: دلشاد عبد الله کردی ذرائع نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ سنجار کے علاقے سے قریب کردستان علاقہ کے صدر مسعود بارزانی کی رہنمائی میں "کردستانی ڈیموکریٹک پارٹی” کی طرف سے حمایت شدہ شامی پیشمرگہ فورسز اور "کردستانی مزدور پارٹی” کی طرف سے حمایت شدہ سنجار حمایت فورسز [&he

موصل: دلشاد عبد الله
کردی ذرائع نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ سنجار کے علاقے سے قریب کردستان علاقہ کے صدر مسعود بارزانی کی رہنمائی میں "کردستانی ڈیموکریٹک پارٹی” کی طرف سے حمایت شدہ شامی پیشمرگہ فورسز اور "کردستانی مزدور پارٹی” کی طرف سے حمایت شدہ سنجار حمایت فورسز کے درمیاں جھڑپیں ہوئیں ہیں۔
کردی سیکورٹی ذرائع نے پر زور انداز میں کہا ہے کہ یہ جھڑپیں اس وقت ہوئیں جب شامی کردی طاقت حرکت میں آئی اور ان کا مقصد کردستان کے علاقہ میں حکومت کی تشکیل کرنا تھا جس کا نام "پیشمرگہ روجاوا” قرار پایا ہے۔ اس حکومت میں شام کی سرحدوں سے لگے وہ علاقے داخل ہونگے جن پر "کردستانی مزدور پارٹی” کی طرف سے حمایت شدہ "سنجار حمایت فورسز” کا قبضہ ہے اور ذرائع نے اس بات کی بھی اطلاع دی ہے کہ اس جھڑپ میں جانبین کے پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
یہ جھڑپیں بارزانی کے ترکی دورہ کے پانچ دن بعد ہوئیں ہیں جہاں مذاکرات کے سلسلہ میں سنجار میں کردستانی مزدور موجود تھے۔
اسی سلسلہ میں ک”ردستانی مزدور پارٹی "کے ترجمان سرحد وارتو نے فرنسیسی پریس کو بتایا ہے کہ سنجار کے علاقہ میں ایزدی تحفظ پوائنٹس کا مقابلہ کرنے کے لئے ترکی اور کردستانی ڈیموکریٹک پارٹی کے درمیان معاہدہ ہے۔
ہفتہ 5 جمادی الثانی 1438 ہجری – 4 مارچ 2017ء شمارہ نمبر {13976}