ازہر کے قانون میں تبدیلی کرنے کے سلسلہ میں کشمکش

قاہرة: وليد عبد الرحمن ایک وقت ایسا ہوا کہ ازہر کے قانون میں تبدیلی کرنے کے مطالبہ کی وجہ سے پارلیمنٹ میں ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔ اس مطالبہ کا مقصد یہ تھا کہ سینسر علماء کمیٹی کے دائرۂ اختیار کو وسیع کیا جائے تاکہ اس میں دوسرے میدان کے ماہرین کو […]

ازہر کے قانون میں تبدیلی کرنے کے سلسلہ میں کشمکش
3

قاہرة: وليد عبد الرحمن

ایک وقت ایسا ہوا کہ ازہر کے قانون میں تبدیلی کرنے کے مطالبہ کی وجہ سے پارلیمنٹ میں ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔ اس مطالبہ کا مقصد یہ تھا کہ سینسر علماء کمیٹی کے دائرۂ اختیار کو وسیع کیا جائے تاکہ اس میں دوسرے میدان کے ماہرین کو بھی شامل کیا جائے۔ سینسر علماء کمیٹی کے رکن ڈاکٹر محمود مہنی نے "الشرق الاوسط” سے کہا کہ ہماری کمیٹی کو تبدیلی کی ضرورت نہیں ہے۔ کمیٹی کے اندر سماج ومعاشرہ کی ضرورت کے مطابق زندکی کے ہر مسئلہ کا جواب دینے کےلئے ماہرین موجود ہیں یہاں تک کہ سائکلوجی کے ماہرین بھی ہیں۔

پارلیمنٹ کے یکجہتی کمیٹی کے ذمہ دار محمد ابو حامد کے ذریعہ بنائے جانے والا یہ قانوں شیخ ازہر اور مصر کے مفتی اعظم کے انتخاب اور مشیخہ، ازہر یونیورسٹی اور اس کے سیکنڈری اسکول کے درمیان تعلقات پر مشتمل ہے۔

ابو حامد نے پر زور انداز میں کہا ہے کہ وہ اس تبدیلی کے سلسلہ میں علمائے کرام کی رائے جاننے کے لئے ان کے ساتھ ملاقات کریں گے اور یہ اجلاس اس قانون کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے سے پہلے تمہید ہوگی۔

مہنی نے کہا ہے کہ میں نے پارلیمنٹ میں دینی کمیٹی کے صدر ڈاکٹر اسامہ العبد سے دو دن قبل گفتگو کی ہے اور ان سے میں نے کہا ہے کہ ازہر اور علمائے مسلمیں ایک امانت ہیں تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ کوئی شخص ازہر کو ہاتھ نہیں لگا سکتا ہے اور مصر ازہر کے بغیر زیرو ہے۔ اخیر میں مہنی نے کہا ہے کہ یہ ازہر شریف اور علماء کمیٹی کے خلاف ایک سازش ہے۔

ہفتہ 5 جمادی الثانی 1438ہجری – 4 مارچ 2017ء شمارہ نمبر {13976}