"منبج” شہر میں کردیوں کو انقرہ کی دھمکی اور واشنگٹن کی فوج متحرک

اﻧﻘﺮة: ﺳﻌﻴﺪ ﻋﺒﺪ اﻟﺮازق ریاستہائے متحدہ امریکہ نے ترک فوج کے ساتھ مل کر شام کے شمال میں واقع شہر منبج میں اپنی فوجی وجود کو ثابت کیا ہے۔ ترکی وزیر دفاع فکری ایشیک نے شہر خالی نہ کرنے کی صورت میں شام کی ڈیموکریٹک فوج کو سخت ضرب کاری کی […]

"منبج” شہر میں کردیوں کو انقرہ کی دھمکی اور واشنگٹن کی فوج متحرک
3

اﻧﻘﺮة: ﺳﻌﻴﺪ ﻋﺒﺪ اﻟﺮازق

ریاستہائے متحدہ امریکہ نے ترک فوج کے ساتھ مل کر شام کے شمال میں واقع شہر منبج میں اپنی فوجی وجود کو ثابت کیا ہے۔ ترکی وزیر دفاع فکری ایشیک  نے شہر خالی نہ کرنے کی صورت میں شام کی ڈیموکریٹک فوج کو سخت ضرب کاری کی دھمکی دی ہے اور یاد رہے اس ڈیموکریٹک فوج پر "کرد پپلز تحفظ پوائنٹس” کا قبضہ ہے۔

جرمن نیوز ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ کی قیادت میں تنظیم داعش کے مخالف اتحاد کے ترجمان جون دوریان نے اپنے ٹویٹر کے ذریعہ اعلان کیا ہے کہ فوج نے منبج کے ارد گرد دشمنی پرمبنی ہونے والی کاروائیوں کو ختم کرنے، حکومت کو تقویت پہنچانے اور کرد پپلز تحفظ پوائنٹس کے وجود نہ ہونے کی ضمانت کے لئے اپنے وجود کو ثابت کیا ہے۔

دوریان نے پر زور انداز میں کہا ہے کہ منبج کی طرف امریکی فوجی گاریوں کے متحرک ہونے کی جو تصویریں نیٹ کے ذریعہ پھیل چکی ہیں وہ صحیح ہیں اور انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ اس اقدام کا مقصد دشمنی کو ختم کر کے تنظیم داعش کی شکشت پر توجہ مرکوز کرنی ہے۔

اتوار  6 جمادی الثانی 1438 ہجری – 5 مارچ 2017ء شمارہ نمبر {13977}