روحانی کے زمانۂ حکومت میں سزائے موت کی شرح نجاد کے زمانۂ حکومت سے زیادہ
لندن: عادل سالمی ایک نئے رپورٹ نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ ایران نے گزشتہ سال کے دوران 35 افراد کو موت کی سزا دی ہے اور یہ بھی بیان کیا کہ صدر حسن روحانی کے ساڑھے تین سال کی مدت حکومت میں سزائے موت کے واردات اتنے زیادہ […]

لندن: عادل سالمی
ایک نئے رپورٹ نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ ایران نے گزشتہ سال کے دوران 35 افراد کو موت کی سزا دی ہے اور یہ بھی بیان کیا کہ صدر حسن روحانی کے ساڑھے تین سال کی مدت حکومت میں سزائے موت کے واردات اتنے زیادہ ہوئے ہیں کہ وہ سابق صدر محمود احمدی نجاد کے دونوں زمانہ حکومت میں دئے گئے سزاؤوں سے تجاوز کر گئے ہیں۔
حقوق انسان کی ایرانی تنظیم اور فرانسیسی تنظیم کے ذریعہ سزائے موت کے خلاف تیار کئے گئے رپورٹ میں ایران کے اندر سزائے موت کی تفصیلی تجزیہ شامل ہے۔ حقوق انسان کی ایرانی تنظیم کے صدر محمود امیری مقدم نے "الشرق الاوسط” کو اطلاع دی ہے کہ 2016 میں سزائے موت کی فیصد میں کمی ہونے کے باوجود بھی ایران بین الاقوامی طور پر پہلے نمبر پر ہے اور ایک اندازہ کے مطابق اس نے روزانہ موت کی ایک سزا کو نافذ کیا ہے۔ انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ سنہ 2017 کے جنوری اور فروری کے ماہ میں 140 سزائے موت کی تعداد یہ ظاہرکرتی ہے کہ سزائے موت کی فیصد میں کمی سزائے موت سنانے اور اس کو نافذ کرنے کی پالیسی کے ساتھ مربوط نہیں ہے۔
جمعہ 11 جمادی الثانی 1438ہجری – 10 مارچ 2017ء شمارہ نمبر {13982}