پوٹن شامی مسئلہ کے حل ہونے کے سلسلہ میں احتیاط کے ساتھ پر امید
ماسکو: عبد الواحد روسی صدر ولادی مير پوٹین نے شام میں سیاسی مسئلہ کے حل ہونے کے احتمالات کے سلسلہ میں اپنی احتیاطی امید کا اظہار کیا ہے اور اس مسئلہ کی بنیادی حلوں تک پہنچنے کے انتظار میں جنگ بندی میں توسیع کرنے کی دعوت دی ہے۔ اسی درمیان شامی […]

ماسکو: عبد الواحد
روسی صدر ولادی مير پوٹین نے شام میں سیاسی مسئلہ کے حل ہونے کے احتمالات کے سلسلہ میں اپنی احتیاطی امید کا اظہار کیا ہے اور اس مسئلہ کی بنیادی حلوں تک پہنچنے کے انتظار میں جنگ بندی میں توسیع کرنے کی دعوت دی ہے۔ اسی درمیان شامی انتظامیہ نے منبج کے قریب ترکی کی طرف سے کئے گئے حملہ میں اپنے فورسز کے ہلاک اور زخمی ہونے کا اعلان کیا ہے اور ترکی صدر رجب طیب اردوغان نے سخت انداز میں کہا ہے کہ ان کا ملک شہر کو آزاد کرانے کی کاروائی میں ایک اہم رول ادا کرنے کا خواہش مند ہے۔
کل ماسکو میں پوٹن نے اردوغان کے ساتھ گفتگو کرنے کے بعد کہا کہ وہ عنقریب شام کے مسئلہ کے حل ہونے کے سلسلہ میں احتیاط کے ساتھ پر امید ہیں۔ انہوں نے اس مسئلہ میں ریاستہائے متحدہ امریکہ جیسے اہم فریق کو شامل کر کے وسیع پیمانہ پر فائر بندی کے امکان اور ایک جامع سیاسی کاروائی کے سلسلہ میں اطمینان کا اظہار کیا ہے اور انہوں نے ترکی کو اطمینان دلانے کے لئے شام میں دونوں ملکوں کے درمیان فوجی تعاون کو فعال اور پر اعتماد قرر دیا ہے جبکہ اس سے قبل ترکی نے اس دورہ کے شام اپنے وزیر خارجہ مولود جاویش اوغلو کی زبان اپنی بے چینی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ روس کی طرف سے شام کے کردیوں کی مدد کئے جانے کا احتمال ہے۔
اردوغان نے پر زور انداز میں کہا کہ شام میں خونریزی بند کرنے کے لئے روسی اور ترکی مشترکہ کوشش کی بہت ضرورت ہے اور انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ ان کا ملک بین الاقوامی اتحاد کے دائرہ میں منبج کی جنگ میں اہم کردار ادا کرنے کا خواہش مند ہے۔ انہوں نے شامی مسئلہ کو حل کرنے کے سلسلہ میں کی جانے والی گفتگو کے دوران اس زمین کی وحدت کی حفاظت کو بہت ہی اہم اور بڑا مقصد قرار دیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ جنیوا کاروائی کی تکمیل کی طرف سے اس بات کا بھی مطالبہ ہے کہ دوسرے تمام فریق بھی اس مسئلہ کے سلسلہ میں کوشش اور جد وجہد کریں۔
ہفتہ 12 جمادی الثانی 1438ہجری – 11 مارچ 2017ء شمارہ نمبر {13983}