مصری پارلیمنٹ میں فتووں کی بے ضابطگی کے خلاف ایک حرکت
قاہرہ: ولید عبد الرحمن مصری پارلیمنٹ فتووں کی بے ضابطگی اور ٹی وی وغیرہ پر آنے والے علماء کے خلاف چند قوانین بنا رہی ہے جس میں ایک قانون یہ ہے کہ فتووں کے سلسلہ میں مصادر کی وضاحت کی جائے اور اس کے علاوہ ایک قانون یہ بھی ہے کہ […]

قاہرہ: ولید عبد الرحمن
مصری پارلیمنٹ فتووں کی بے ضابطگی اور ٹی وی وغیرہ پر آنے والے علماء کے خلاف چند قوانین بنا رہی ہے جس میں ایک قانون یہ ہے کہ فتووں کے سلسلہ میں مصادر کی وضاحت کی جائے اور اس کے علاوہ ایک قانون یہ بھی ہے کہ جو شخص بھی اجازت کے بغیر ٹی وی چینل پر حاضر ہوگا اسے قید کیا جائے گا اور اس پر 100 ہزار مصری پاؤنڈ کا جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
پارلیمنٹ میں دینی کمیٹی کے ارکان نے قانون کا تین مسودہ پیش کیا ہے جس میں ایک مصری دار الافتاء کے اندر کام کو منظم کرنے کا قانون ہے، دوسرا عام فتووں کو منظم کرنے کا قانون ہے اور تیسرا بغیر اجازت ٹی وی چینلوں پر نہ آنے کا قانون ہے۔
پارلیمنٹ میں یہ اقدام اس وقت لیا گیا ہے جب مصر میں بے ضابطہ فتووں اور ٹی وی چینلوں اور میڈیاء میں مفتیوں کی کثرت ہو گئی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کی طرف سے مصری دار الافتاء پر ہاتھ ڈالنے کی وجہ سے بہت سارے خدشات کا اندیشہ ہے لیکن پارلیمنٹ ذرائع نے پرزور انداز میں کہا ہے کہ ان قوانین میں عام طور پر دینی اداروں کی خدمت کے ساتھ عام فائدہ بھی ہے۔
ہفتہ 12 جمادی الثانی 1438ہجری – 11 مارچ 2017ء شمارہ نمبر {13983}