دمشق میں بم دھماکے کی وجہ سے دسیوں عراقی جاں بحق
مخالف جماعتوں کا آستانہ کانفرنس ملتوی کرنے کا مطالبہ اور رقہ سے داعش کے اہل خانہ کا اجتماعی فرار بیروت: کارولین عیکوم کل دمشق میں شام میں ہونے والے بحران کے بعد سب سے زیادہ خونریز بم دھماکہ ہوا ہے جس میں عراق کے شیعہ زائرین کو نشانہ بنایا گیا ہے […]
مخالف جماعتوں کا آستانہ کانفرنس ملتوی کرنے کا مطالبہ اور رقہ سے داعش کے اہل خانہ کا اجتماعی فرار

بیروت: کارولین عیکوم
کل دمشق میں شام میں ہونے والے بحران کے بعد سب سے زیادہ خونریز بم دھماکہ ہوا ہے جس میں عراق کے شیعہ زائرین کو نشانہ بنایا گیا ہے اور اس کی وجہ سے دسیوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ دمشق کے مرکزی علاقہ میں واقع شاغور نامی گاؤں کے چھوٹے دروازہ کی مزار کو نشانہ بنانے والے دونوں بم دھماکے 15 منٹ کے وقفہ سے ہوئے ہیں اور ہلاگ شدگان کو نکالنے کا کام پورے دن مسلسل جاری رہا یہاں تک کہ شام تک ہلاک شدگان کی تعداد 46 اور زخمی افرا کی تعداد 120 سے زائد بتائی گئی ہے۔
کل شام تک ان دونوں بم دھماکوں کی ذمہ داری کسی تنظیم نے نہیں لی ہے لیکن مخالف جماعتوں کے ذرائع نے اس بات کو بعید نہیں سمجھا ہے کہ ان بم دھماکوں کی ذمہ دار شام کو آزاد کرانے کی پارٹی ہے کیونکہ واشنگٹن کا سمجھنا یہ ہے کہ اس پارٹی میں جو بھی شامل ہے وہ القاعدہ کا جز ہے۔
اسی سلسلہ میں مخالف جماعتوں نے 14 اور 15 مارچ کو آستانہ میں ہونے والی کانفرنس کو ملتوی کرکے 7 سے 20 مارچ تک اعلان شدہ جنگ بندی کے بعد منعقد کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور اس کانفرنس میں اپنی شرکت کی یہ شرط بھی لگائی ہے کہ فائر بندی معاہدہ کو نافذ کیا جائے، جبری نقل مکانی اور آبادیاتی تبدیلی کو روکا جائے۔
دوسری طرف داعش رہنماؤں کی فیملیاں رقہ کو چھوڑ کر فرار ہو رہی ہیں اور تنظیم داعش جنگ کی تیاری میں شہر کے اندر مزید کمک اور جنگجوؤں کا استقبال کر رہی ہے۔ حقوق انسان کے شامی مبصر کا کہنا ہے کہ آخری 36 گھنٹوں میں تنظیم کے 300 سے زائد رہنماؤں اور جنگجوؤں کی فیملیوں نے رقہ شہر کو چھوڑ دیا ہے۔
اتوار 13 جمادی الثانی 1438 ہجری – 12 مارچ 2017ء شمارہ نمبر {13984}