کردیوں کا تعاون کرنے میں روس امریکہ کے ساتھ
بیروت: کارولین عاکوم روس نے بھی شام میں فوجی تعاون کے ارادہ سے کردیوں کا تعاون کرنا شروع کر دیا ہے جبکہ کرد عوام کی حفاظتی یونٹس کو یہ تعاون واشنگٹن کی قیادت میں بین الاقوامی معاہدہ سے حاصل ہوا ہے کیونکہ اس سے قبل اس حفاظتی یونٹس نے تنظیم داعش […]

بیروت: کارولین عاکوم
روس نے بھی شام میں فوجی تعاون کے ارادہ سے کردیوں کا تعاون کرنا شروع کر دیا ہے جبکہ کرد عوام کی حفاظتی یونٹس کو یہ تعاون واشنگٹن کی قیادت میں بین الاقوامی معاہدہ سے حاصل ہوا ہے کیونکہ اس سے قبل اس حفاظتی یونٹس نے تنظیم داعش کے خلاف جنگ کرنے میں اپنی کارکردگی کا زبردست مظاہرہ کیا تھا اور عرب جماعتوں کے ساتھ مل کر شام کے شمال اور مشرقی شمال سے ان کو بھگانے میں کامیاب ہو گئے تھے۔
حفاظتی یونٹس نے کل اس بات کا اعلان کیا ہے کہ اس نے روس کے ساتھ اپنی نوعیت کا پہلا معاہدہ کیا ہے جس کا مقصد شمالی شام میں اپنی فوجیوں کی تربیت مقصود ہے۔ اس نے اس بات کا بھی انکشاف کیا ہے کہ وہ سال رواں کے دوران سرحدوں پر اپنی فوج میں ایک لاکھ جنگجو کا اضافہ کرے گا۔ اسی طرح اس نے یہ بھی کہا ہے کہ روس شام کے مغربی شمال میں حفاظتی یونٹس کے ساتھ مل کر ایک فوجی اڈہ قائم کرنے جا رہا ہے اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ وہ علاقے ہیں جہاں حفاظتی یونٹس کا غلبہ ہے لیکن روس نے اس بات کی تردید یہ اشارہ کرتے ہوے کیا ہے کہ اب شام میں فوجی اڈے قائم کرنے کا کوئی لائحۂ عمل نہیں ہے۔
منگل 22 جمادی الثانی 1438 ہجری – 21 مارچ 2017ء شمارہ نمبر {13993}