موصل میں "داعش” کی وجہ سے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ
موصل: دلشاد عبد الله تنظیم "داعش” شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر رہی ہے، جس نے گذشتہ دو دنوں کے دوران مغربی موصل میں کنٹرول کردہ علاقوں میں ان کا محاصرہ کر کے ان کے گھروں پر اپنے پرچم کو بلند کروا رہی ہے۔ تاکہ بین الاقوامی اتحادیوں اورعراقی فوج کو دھوکہ دے […]

موصل: دلشاد عبد الله
تنظیم "داعش” شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر رہی ہے، جس نے گذشتہ دو دنوں کے دوران مغربی موصل میں کنٹرول کردہ علاقوں میں ان کا محاصرہ کر کے ان کے گھروں پر اپنے پرچم کو بلند کروا رہی ہے۔ تاکہ بین الاقوامی اتحادیوں اورعراقی فوج کو دھوکہ دے کر سینکڑوں شہریوں کی ہلاکت کا سامان کیا جا سکے۔
موصل شہر کے مرکز کے سربراہ حسین علی حاجم نے "الشرق الاوسط” سے کہا کہ "داعش نے نیو موصل اور الرسالہ محلے کے رہائشی افراد کو گلیوں سے حراست میں لے کر ان گھروں کے اندر لے گئی کہ جن کی چھتوں سے طیارہ شکن ہتھیار داغے گئے تو جوابا ان جہازوں نے میزائلوں سے انہیں نشانہ بنایا اور ان عمارتوں میں موجود تمام افراد ہلاک ہوگئے”۔ کل ان دونوں محلوں میں شہری دفاع اور نوجوان رضا کاروں کی ٹیموں نے بمباری میں نشانہ بننے والی عمارتوں کے ملبے سے سینکڑوں شہریوں کی لاشوں کو نکالنے کی کوشش کی۔ ان دونوں محلوں پر حملے کے باعث ہلاک شدگان کی لاشیں نکالنے میں شریک ایک مقامی تنظیم کی خاتون سربراہ نے "الشرق الاوسط” کو انکشاف کیا کہ نیو موصل پر حملے کے باعث 132 اور الرسالہ پر حملے میں 305 شہری جان بحق ہوئے ہیں۔