نصر الحريری "الشرق الاوسط” سے: شامی مذاکرات 20 سال تک جاری رہ سکتے ہیں
جنیوا: ميشال ابو نجم جنیوا میں شامی مخالف جماعتوں کے مذاکراتی وفد کے سربراہ نصر الحریری نے شام کی حکومت کی جانب سے مذاکرات میں مجوزہ تمام فائلوں پر بحث کرنے سے گریز پر عالمی دباؤ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر عالمی برادری نے دباؤ جاری رکھنے سے گریز […]

جنیوا: ميشال ابو نجم
جنیوا میں شامی مخالف جماعتوں کے مذاکراتی وفد کے سربراہ نصر الحریری نے شام کی حکومت کی جانب سے مذاکرات میں مجوزہ تمام فائلوں پر بحث کرنے سے گریز پر عالمی دباؤ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر عالمی برادری نے دباؤ جاری رکھنے سے گریز کیا تو ایسی صورت میں "شاید یہ (مذاکراتی) عمل 20 سال تک جاری رہے”۔
جنیوا میں "الشرق الاوسط” کو انٹرویو دیتے ہوئے الحریری نے کہا کہ اگر حکومت تصفیہ کو تسلیم کر لے؛ جو ناممکن امر ہے، تو ایران اس کی مخالفت کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئے ایلچی کی بجائے بین الاقوامی ایلچی سٹیفن ڈی مستورا کو ان کا مشن جاری رکھنے دینا زیادہ بہتر امر ہے۔