قتل عام سے بچنے کے لئے موصل میں بھاری ہتھیاروں کے استعمال پر پابندی
گوتيرس کا شہریوں کو "ترجیحی”بنیاد پر تحفظ فراہم کرنا کی یقین دہانی بغداد: "الشرق الاوسط” کل عراقی فوجی ذرائع نے بیان کیا ہے کہ مشترکہ آپریشنز کی قیادت کو مسلح افواج کی جنرل کمانڈ کی طرف سے احکامات موصول ہوئے ہیں کہ موصل شہر کے بقیہ علاقوں کو آزاد کرانے کی کاروائی کے
گوتيرس کا شہریوں کو "ترجیحی”بنیاد پر تحفظ فراہم کرنا کی یقین دہانی

بغداد: "الشرق الاوسط”
کل عراقی فوجی ذرائع نے بیان کیا ہے کہ مشترکہ آپریشنز کی قیادت کو مسلح افواج کی جنرل کمانڈ کی طرف سے احکامات موصول ہوئے ہیں کہ موصل شہر کے بقیہ علاقوں کو آزاد کرانے کی کاروائی کے دوران بھاری ہتھیاروں کا استعمال نہ کیا جائے۔ جرمن اخباری ایجنسی کے مطابق مشترکہ آپریشنز کمانڈ کے بریگیڈیئر جنرل محمد الجبوری نے کہا ہے کہ "آپریشنز کی قیادت نے وفاقی پولیس فورس اور انسداد دہشت گردی کے ادارے کو مطلع کیا ہے کہ (داعش کے) ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے لئےبھاری ہتھیار اور اسمارٹ توپوں کا استعمال نہ کریں تاکہ مغربی موصل کے علاقوں میں شہریوں کو مزید ہلاکتوں سے بچایا جا سکے”۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ عام شہریوں کی ہلاکتوں کے بڑھنے اور "داعش” کے عناصر کی جانب سے ان کا استحصال کرتے ہوئے ان کو بطور انسانی ڈھال کے استعمال کرنے کی وجہ سے ہے۔