شام میں ٹرمپ کی ترجیحات کی وجہ سے کاغذوں میں خلط ملط
جنیوا: میکائل ابو نجم شام میں امریکہ کی نئی انتظامیہ کی ترجیحات نے جنیوا میں مذاکرات کے نئے سیشن کے ختم ہونے کی شام تمام کاغذوں کو خلط ملط کر دیا ہے جیسا کہ اس کے بارے میں پرسوں امریکی ذمہ داروں نے انکشاف کیا ہے اور پر زور انداز میں […]

جنیوا: میکائل ابو نجم
شام میں امریکہ کی نئی انتظامیہ کی ترجیحات نے جنیوا میں مذاکرات کے نئے سیشن کے ختم ہونے کی شام تمام کاغذوں کو خلط ملط کر دیا ہے جیسا کہ اس کے بارے میں پرسوں امریکی ذمہ داروں نے انکشاف کیا ہے اور پر زور انداز میں کہا ہے کہ شام کے صدر بشار الاسد کا انجام ان ترجیحات کا جزء نہیں ہے۔
امریکی وزیر خارجہ اور اقوام متحدہ میں امریکہ کے سفیر کے بیانات نے اس بات کی تاکید کی ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ شامی صدر کے انجام پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے شام کی کشمکش کی ایک طویل سیاسی حل کی کوشش کر رہی ہے کیونکہ کل فرانس کے وزیر خارجہ جان مارک ایرولٹ نے نیٹو اجلاس کے موقع پر کہا ہے کہ شام میں سلامتی معاہدہ تک پہنچنے کے لیے کی جانے والی کوششوں میں صرف اسد کے انجام پر توجہ مرکوز کرنا ضروری نہیں ہے۔
ہفتہ 4 رجب 1438ہجری – 1 اپریل 2017ء شمارہ نمبر {14004}