ترکی اور کردی کشمکش کی شدت کی وجہ سے واشنگٹن بے چین

بیروت: بولا اسطیح شمالی شام کے علاقے میں واقع تنظیم داعش کے اڈہ رقہ شہر میں داخل ہونے کے لیے "شام کی ڈیموکریٹک فورسز” کی تیاری کے وقت ترکی اور کردی کشمکش سخت ہو گئی ہے اور انقرہ نے عراق اور شام دونوں جگہوں میں ایک ساتھ کردی جنگجوؤں کے اڈوں […]

ترکی اور کردی کشمکش کی شدت کی وجہ سے واشنگٹن بے چین
3

بیروت: بولا اسطیح

شمالی شام کے علاقے میں واقع تنظیم داعش کے اڈہ رقہ شہر میں داخل ہونے کے لیے "شام کی ڈیموکریٹک فورسز” کی تیاری کے وقت ترکی اور کردی کشمکش سخت ہو گئی ہے اور انقرہ نے عراق اور شام دونوں جگہوں میں ایک ساتھ کردی جنگجوؤں کے اڈوں پر دسیوں حملہ کیا ہے۔

ترکی حملہ نے حسکہ گورنریٹ میں واقع قرہ جوخ علاقہ کے ایک ریڈیو براڈکاسٹ کے مقامی اسٹیشن اور کردی فورسز کے ایک میڈیاء سنٹر کو نشانہ بنایا ہے جس میں کرد پوائنٹس کے 15 افراد اور میڈیاء سنٹر کے تین اہلکار ہلاک ہؤئے ہیں۔ اسی طرح ان حملوں میں عراق کے شامل میں کردی جنگجوؤں کو نشانہ بنایا گیا ہے اور ہیش مرگہ فورسز نے اپنے 6 اہلکار کے ہلاک ہونے کا اعلان کیا ہے۔

بدھ 29  رجب 1438ہجری –  26 اپریل  2017ء شمارہ نمبر {14029}