تعلیمی ادارہ پر ایک نگاہ: "اکزیٹر” 70 تحقیقی مرکز جن میں عرب اور اسلامی علوم سرفہرست
لندن: کمال قدورہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ "اکزیٹر” یونیورسٹی عرب اور اسلامی علوم میں سب سے زیادہ مشہور برطانیہ کی یونیورسٹی ہے اور اسی طرح یہ یونیورسٹی دنیا میں برطانیہ کی ایک مرکزی اور روایتی یونیورسٹی کے اعتبار سے مشہور ہے۔ یہ یونیورسٹی انگلینڈ کے مغربی جنوب میں […]

لندن: کمال قدورہ
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ "اکزیٹر” یونیورسٹی عرب اور اسلامی علوم میں سب سے زیادہ مشہور برطانیہ کی یونیورسٹی ہے اور اسی طرح یہ یونیورسٹی دنیا میں برطانیہ کی ایک مرکزی اور روایتی یونیورسٹی کے اعتبار سے مشہور ہے۔ یہ یونیورسٹی انگلینڈ کے مغربی جنوب میں ڈیفون کے ایک شہر میں واقع ہے۔
اس یونیورسٹی کا آغاز سنہ 1855ء میں آرٹس اور سائنس کے ایک اسکول کے قیام کے ساتھ ہوا تھا لیکن سنہ 1955ء میں اسے سرکاری طور پر ایک یونیورسٹی کے طور پر قبول کر لیا گیا۔
یونیورسٹی میں 22 ہزار طلبہ ہیں جن میں چار ہزار ہایئر ایجوکیشن میں ہیں۔ اس یونیورسٹی کی سالانہ آمدنی نصف ارب ڈالر سے زائد ہے اور عالم عربی اور عالم اسلامی کے ساتھ اس یونیورسٹی کا بہت ہی مضبوط اور پرانا تعلق ہے اور اس یونیورسٹی میں گزشتہ سالوں میں سینکڑوں عرب طلبہ تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔
پیر 11 شعبان 1438 ہجری 8 میئ 2017ء شمارہ: (14041)