"لندن کانفرنس” میں صومالیہ کی معیشیت اور سلامتی کی حمایت پر توجہ مرکوز
لندن: "الشرق الاوسط” کل برطانوی دارالحکومت کی میزبانی میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس میں صومالیہ میں استحکام کی حمایت اور اس کی معاشی امداد کے فروغ پر توجہ مرکوز کی گئی۔ کانفرنس کے افتتاح کے موقع پر برطانیہ کی وزیر اعظم ٹریزا مئے نے اس بات پر زور دیا کہ اس [&hel

لندن: "الشرق الاوسط”
کل برطانوی دارالحکومت کی میزبانی میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس میں صومالیہ میں استحکام کی حمایت اور اس کی معاشی امداد کے فروغ پر توجہ مرکوز کی گئی۔
کانفرنس کے افتتاح کے موقع پر برطانیہ کی وزیر اعظم ٹریزا مئے نے اس بات پر زور دیا کہ اس اجلاس کا مقصد "صومالی عوام کے مستقبل کو مزید خوشحال، مستحکم اور محفوظ بنانا ہے”۔ علاوہ ازیں انہوں نے "پورے براعظم اور دنیا میں عدم استحکام” کے خطرات سے متنبہ کیا جو کہ صومالیہ میں دہشت گردی، قحط اور بحر ہند کے قزاقوں کے سبب سے ہیں”۔
دریں اثناء صومالیہ کے صدر محمد عبد اللہ فرماجو نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ "دہشت گردی، کرپشن اور غربت” جیسے دشمنوں کے ساتھ نمٹنے کے لئے ان کے ملک کی مدد کریں۔ چونکہ یہ صدی افریقہ کی صدی ہے اور ان کا ملک پوری دنیا میں سب سے زیادہ غریب اور عدم استحکام والا ملک شمار کیا جاتا ہے، چنانچہ انہوں نے اپنے ملک کی "بے انتہا آبادی کی توانائیوں” کو ملکی ترقی میں صرف کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
یورپی یونین نے دو سو ملین یورو (217 ملین ڈالر) کی رقم اضافی دینے کا وعدہ کیا ہے، جبکہ صومالیہ میں 2015 سے 2020 تک کے عرصے میں 3٫4 ملیار یورو (3٫7 ملیار ڈالر) کی رقم انسانی اور عسکری شعبہ جات کے لئے مختص ہے۔ علاوہ ازیں "لندن کانفرنس” میں پیش کردہ رپوٹوں کے دوران اقتصادی اصلاحات کے بدلے میں صومالیہ پر 5٫3 ملیار ڈالر کے قرضے میں کمی لانے کے مسئلہ پر بھی روشنی ڈالی گئی۔