وائٹ ہاؤس صدر کی روس کے ساتھ بات چیت کا دفاع کر رہا ہے

  واشنگٹن: خاطر الخاطر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا روسی حکام کو تنظیم داعش سے متعلق انتہائی حساس معلومات فراہم کرنے کی رپورٹ کے بعد، امریکی قومی سلامتی کے مشیر نے کل اپنے بیان میں اس بات سے انکار کیا ہے کہ صدر ٹرمپ "قومی سلامتی کے لئے خطرے کا باعث بن سکتے ہیں”۔ قومی […]

وائٹ ہاؤس صدر کی روس کے ساتھ بات چیت کا دفاع کر رہا ہے

واشنگٹن: خاطر الخاطر

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا روسی حکام کو تنظیم داعش سے متعلق انتہائی حساس معلومات فراہم کرنے کی رپورٹ کے بعد، امریکی قومی سلامتی کے مشیر نے کل اپنے بیان میں اس بات سے انکار کیا ہے کہ صدر ٹرمپ "قومی سلامتی کے لئے خطرے کا باعث بن سکتے ہیں”۔ قومی سلامتی کے مشیر جنرل ہربرٹ ریمنڈ میک ماسٹر نے کہا: "یہ مفروضہ جس پر اس رپورٹ کا دارومدار ہے؛ کہ صدر قومی سلامتی میں کسی قسم کے تعطل کا باعث بن رہے ہیں، یہ بات انتہائی غیر مناسب ہے اور غلط ہے”۔  دریں اثناء انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صدر ٹرمپ کو دہشت گردی اور فضائی حفاظت سے متعلق معلومات کا ماسکو کے ساتھ تبادلہ کرنے کا "مکمل” حق حاصل ہے۔

میگزین "واشنگٹن پوسٹ” نے اس رپورٹ کے انکشاف کے ذریعے خون آلود تنازعہ کو جنم دیا کہ ٹرمپ نے روسی وزیر خارجہ سیرگی لافروف اور واشنگٹن میں ماسکو کے سفیر سیرگی کیسلیاک کے ساتھ تنظیم داعش سے متعلق حساس معلومات کا تبادلہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ معلومات ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے اتحادیوں کی طرف سے دی گئی تھی اور اس میں یہ نہیں کہا گیا تھا کہ واشنگٹن انہیں ماسکو کے ساتھ تبادلہ کرے۔

بدھ 20 شعبان 1438 ہجری­ 17 مئی 2017ء  شمارہ: (14050)