ڈی مستورا کی طرف سے تجویز کردہ "آئینی طریقہ کار” پر شامی مخالف جماعتوں کے تحفظات

  بيروت – جنیوا: "الشرق الاوسط” شام کے لئے اقوام متحدہ کے ایلچی سٹیفن ڈی مستورا نے کل "منجمد مذاکرات” کو آئینی اور قانونی اعتبار سے مشاورتی میکانیزم کی تجویز کے ذریعے توڑنے کی کوشش کی، جبکہ مخالف جماعتوں نے اس پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ شامی مخالف جماعتو

بيروت – جنیوا: "الشرق الاوسط”

شام کے لئے اقوام متحدہ کے ایلچی سٹیفن ڈی مستورا نے کل "منجمد مذاکرات” کو آئینی اور قانونی اعتبار سے مشاورتی میکانیزم کی تجویز کے ذریعے توڑنے کی کوشش کی، جبکہ مخالف جماعتوں نے اس پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

شامی مخالف جماعتوں کے اہم ذرائع نے "الشرق الاوسط” کو بتایا کہ جنیوا میں شامی مذکرات کے چھٹے راؤنڈ کے دوران ڈی مستورا نے شام کے نئے آئین کی تشکیل کے لئے مشاورتی میکانیزم کی تجویز دی، تاکہ اس کی بنیاد پر مذاکراتی عمل آگے بڑھے۔ ذرائع نے نشاندہی کی ہے کہ بین الاقوامی ایلچی "مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ سے بچتے ہوئے ایک نظام قائم کرنا چاہتے ہیں تاکہ عملی طور پر روسی فریق کو ان مذاکرات سے الگ کر دیا جائے جو کہ سیاسی منتقلی؛ جس پر مخالف جماعتوں کا اصرار ہے، اس کے بدلے میں آئین کے معاملے پر بات چیت کرنے کو ترجیح دیتا ہے”۔ ذرائع نے وضاحت کی کہ مخالف جماعتوں نے تجاویز پر غور کرنے کے لئے کل رات اجلاس منعقد کیا اور کئی ایک تحفظات کو ریکارڈ کیا مگر کوئی ایک موقف اختیار نہیں کیا گیا۔

بدھ 20 شعبان 1438 ہجری­ 17 مئی 2017ء  شمارہ: (14050)