شام میں "ایرانی اجارہ داری” کو ختم کرنے کے لئے امریکی اقدام
شام کے جنوب میں "محفوظ علاقے” کے بارے میں واشنگٹن کا ماسکو کے ساتھ مذاکرات لندن: ابراہیم حميدی امریکی اور روسی حکام جنوبی شام میں "پرامن علاقے” کے بار میں فوجی اور سفارتی مذاکرات کے چند روز بعد عمان میں دوبارہ مذکرات شروع کر رہے ہیں۔ دریں اثنا واشنگٹن عراقی سرحد کے قری
شام کے جنوب میں "محفوظ علاقے” کے بارے میں واشنگٹن کا ماسکو کے ساتھ مذاکرات

لندن: ابراہیم حميدی
امریکی اور روسی حکام جنوبی شام میں "پرامن علاقے” کے بار میں فوجی اور سفارتی مذاکرات کے چند روز بعد عمان میں دوبارہ مذکرات شروع کر رہے ہیں۔ دریں اثنا واشنگٹن عراقی سرحد کے قریب تنف میں "آزاد فوج” کی حمایت جاری رکھتے ہوئے الرقہ کو "داعش” سے آزاد کرانے کے لئے "شامی ڈیموکریٹک فورسز” کی امداد کر رہا ہے اور یہ سب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی حکومت کی طرف سے شام میں "ایرانی اجارہ داری” کو ختم کرنے کے اقدام کا ایک حصہ ہے۔
مغربی ذمہ دار نے "الشرق الاوسط” کو بتایا کہ چند روز پہلے امریکہ نے دمشق کی حمایت یافتہ ایرانی ملیشیا کو تنف نامی فوجی چھاؤنی کی طرف پیش قدمی سے منع کرنے کے لئے ان پر بمباری کی۔ تنف نامی فوجی چھاؤنی میں امریکی، برطانوی اور ناروے کے تربیت یافتہ اور شامی مخالف جماعتوں کے جنگجو قیام پذیر ہیں۔ یاد رہے کہ ہی پہلی بار ہے کہ امریکی فوج شامی مخالف جماعتوں کے زیر کنٹرول کسی علاقے کا دفاع کر رہی ہے۔