ترکی میں عربی زبان۔۔۔ لازمی مضمون اور غیر معمولی فروغ
انقرہ: سعید عبد الرازق چند سال پہلے ترکی میں عربی زبان سیکھنے کے سلسلہ میں لوگوں کی توجہ صرف بعض انجمنوں اور اسلامی وقف کے اداروں میں محدود تھی اور اس کا مقصد صرف قرآن شریف پڑھنے میں مدد حاصل کرنا تھا جیسا کہ درس نظامی چند یونیورسٹیوں کے بعض فیکلٹیوں […]

انقرہ: سعید عبد الرازق
چند سال پہلے ترکی میں عربی زبان سیکھنے کے سلسلہ میں لوگوں کی توجہ صرف بعض انجمنوں اور اسلامی وقف کے اداروں میں محدود تھی اور اس کا مقصد صرف قرآن شریف پڑھنے میں مدد حاصل کرنا تھا جیسا کہ درس نظامی چند یونیورسٹیوں کے بعض فیکلٹیوں میں محدود تھی لیکن ترکی میں جسٹسٹ اور ڈیولپمنٹ پارٹی کے حکومت میں آتے ہی عرب تنظیموں سے قربت شروع ہو گئی اور عربی زبان سیکھنے کے سلسلہ میں ترک عوام کے اندر ذوق وشوق میں اضافہ ہوا لہذا عربی زبان سیکھنے کے لئے بہت سارے مراکز وجود میں آئے اور بعض مراکز نے تو اکیڈمی کی شکل اختیار کر لی اور یہ اکیڈمی حکومت کی طرف سے عربی زبان کے معیار کو وسیع کرنے کے لائحہ عمل کے مقابلہ میں یونیورسٹی سطح کی سرٹیفکیٹ بھی دینے لگی ہے اور اب اس میں اس حد تک ترقی ہو چکی ہے کہ گزشتہ سال اسے ابتدائی اسکولوں کے نصاب میں داخل کر دیا گیا ہے اور اس کے علاوہ یونیورسٹیوں میں عربی زبان کی فیکلٹیوں میں بھی وسعت کی گئی ہے۔
پیر 3 رمضان المبارک 1438 ہجری 29 مئی 2017ء شمارہ: (14062)