روس کی "بادیہ جنگ” میں میزائلوں اور طیاروں کے ساتھ مداخلت
انقرہ واشنگٹن کی طرف سے شامی کردوں کو مسلح کرنے پر ناراض اور وہ اسے "اتحادی رویہ” شمارہ نہیں کرتا لندن – بيروت – انقرہ: "الشرق الاوسط” روس بحیرہ روم سے شام کے وسطی علاقوں پر میزائل اور راکٹ داغتے ہوئے قوت کے ساتھ شام کی "بادیہ جنگ” میں داخل ہو چکا
انقرہ واشنگٹن کی طرف سے شامی کردوں کو مسلح کرنے پر ناراض اور وہ اسے "اتحادی رویہ” شمارہ نہیں کرتا

لندن – بيروت – انقرہ: "الشرق الاوسط”
روس بحیرہ روم سے شام کے وسطی علاقوں پر میزائل اور راکٹ داغتے ہوئے قوت کے ساتھ شام کی "بادیہ جنگ” میں داخل ہو چکا ہے۔ جبکہ امریکہ کی طرف سے شامی حکومت کی حمایت یافتہ ایرانی ملیشیاؤں کو ان علاقوں کے قریب آنے سے منع کیا گیا تھا۔
کل "شام کی آزاد فوج” کے رہنماؤں نے کہا کہ تدمر اور شامی عراقی اردنی سرحدی مثلث کی جانب ان کی پیش قدمی کو روکنے کے لئے روس نے ان پر 6 راکٹ داغے ہیں۔۔۔
یاد رہے کہ امریکہ نے شامی حکومت کی حمایت یافتہ ایرانی ملیشیاؤں کے ٹھکانوں پر 18 مئی کو بمباری کی اور گذشتہ منگل کے روز عراق کے قریب بین الاقوامی اتحادیوں کے زیر کنٹرول تنف نامی کیمپ کے قریب آنے سے خبردار کیا تھا۔۔۔
دوسری جانب ترک وزیر خارجہ مولود جاویش اوغلو نے واشنگٹن کی جانب سے کرد جنگجوؤں کو ہتھیار دینے سے خبردار کیا ہے، کیونکہ انقرہ انہیں "دہشت گرد” اور اس "امر کو انتہائی خطرناک” قرار دیتا ہے۔ ترک سیکورٹی کونسل نے کل اجلاس کے بعد اعلان کیا ہے کہ امریکہ کی طرف سے کردوں کے "عوامی حمایتی یونٹس” کو مسلح کرنا، ایک اتحادی ملک کے رویہ کے مطابق نہیں ہے۔