عراقی "عوامی فوج” اتحادیوں کا امتحان لے رہی ہے – اور پوٹن کو شام کی تقسیم کاری پر تشویش
بيروت: بولا اسطيح ـ ماسکو: طہ عبد الواحد کل عراقی "عوامی فوج” نے بین الاقوامی اتحاد؛ جو کہ خطے میں عرب اور کرد جنگجوؤں کو تحفظ فراہم کر رہا ہے، ان کا امتحان لینے کی خاطر گھنٹوں تک شام کے مشرقی علاقوں کے اندر داخل رہیں، جبکہ "عوامی فوج” کے ترجمان احمد الاسدی [&hel

بيروت: بولا اسطيح ـ ماسکو: طہ عبد الواحد
کل عراقی "عوامی فوج” نے بین الاقوامی اتحاد؛ جو کہ خطے میں عرب اور کرد جنگجوؤں کو تحفظ فراہم کر رہا ہے، ان کا امتحان لینے کی خاطر گھنٹوں تک شام کے مشرقی علاقوں کے اندر داخل رہیں، جبکہ "عوامی فوج” کے ترجمان احمد الاسدی نے اپنی افواج کا شام میں داخل ہونے سے انکار کیا ہے، دریں اثناء "شام میں انسانی حقوق کی رصد گاہ” نے تصدیق کی ہے کہ "عوامی افواج” گورنریٹ حسکہ کے ایک گاؤں میں کچھ دیر کے لئے داخل ہوئی اور پھر اس سے انخلا کیا۔ شام کے نیوز نیٹ ورک "الخابور” کے مطابق "عوامی فوج” نے؛ خطے سے تنظیم داعش کے اچانک انخلا کے بعد، صبح سویرے حسکہ کے جنوب مشرقی دو گاؤں قصیبہ اور بواردی پر کنٹرول سنبھالا۔ نیوز نیٹ ورک کے مطابق "عراقی عوامی فوج” 10 کلومیٹر کے علاقے تک داخل ہوئی تھی۔۔۔
دوسری جانب روسی وزارت دفاع نے اپنے جاری بیان میں کہا ہے کہ تیس مئی کی رات گاڑیوں کے تین قافلے رات کی تاریکی میں رقہ شہر سے نکل کر انتہائی جنوبی سمت روانہ ہوئے۔ ان کا پیچھا کیا گیا اور ان پر فضائی حملہ کیا گیا جس میں 80 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ کل روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے پیڑزبرگ بین الاقوامی اقتصادی کانفرنس کے موقع پر کہا کہ "شام کی تقسیم کا امکان تشویشناک ہے”۔