عراق میں غیر ملکی "داعش” کے "نامعلوم ولدیت والے بچوں” کا کردار

بغداد: "الشرق الاوسط” "داعش” کے زیر کنٹرول عراقی علاقوں میں دن بہ دن ان کی خرابیاں ظاہر ہو رہے ہیں۔ حالیہ وقت میں عراقی حکومت کو انتہا پسند تنظیم کے عناصر اور خاص طور سے غیر ملکی عناصر کے خاندانوں، ان سے شادی کرنے والی عراقی خواتین اور ان کے بچوں کے بارے […]

عراق میں غیر ملکی  "داعش” کے "نامعلوم ولدیت والے بچوں” کا کردار

بغداد: "الشرق الاوسط”

"داعش” کے زیر کنٹرول عراقی علاقوں میں دن بہ دن ان کی خرابیاں ظاہر ہو رہے ہیں۔ حالیہ وقت میں عراقی حکومت کو انتہا پسند تنظیم کے عناصر اور خاص طور سے غیر ملکی عناصر کے خاندانوں، ان سے شادی کرنے والی عراقی خواتین اور ان کے بچوں کے بارے میں سنگین سماجی مشکلات کا سامنا ہے۔

مسلح گروپوں کے ماہر محقق اور اس قسم کی شادیوں کے بارے میں تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ہشام الہاشمی کا کہنا ہے کہ تنظیم کی جانب سے چھوڑی گئی دستاویزات میں پائے جانے والے ریکارڈ کے مطابق تقریبا 3700 شادیوں کو تنظیم کی عدالتوں میں رجسٹرڈ کروایا گیا، جبکہ بہت سی شادیوں کو رجسٹرڈ ہی نہیں کروایا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ "عراق میں "داعش” کے ساتھ مل کر لڑنے والے عناصر 68 غیر ملکی شہریت کے حامل ہیں، جبکہ غیر ملکیوں سے شادی کرنے والی خواتین کی اکثریت کا تعلق مغربی موصل اور تلعفر کے علاقوں سے ہے جن کی اکثریت ترکمان ہے، سب سے زیادہ شادی کی کاروائیاں ترکمانی نسل کے آذربائیجانی عناصر سے ہوئیں”۔

عراقی حکام ان بچوں کے نسب کی تصدیق کرنے سے قاصر ہیں جن کے والد عراق چھوڑ چکے ہیں یا قتل ہو چکے ہیں۔ ایسی صورت حال میں ریاست مجبور ہے کہ وہ انہیں نامعلوم ولدیت والے بچوں کے قانون کے ضمن میں لے اور اس طرح ان کے لئے مخصوص کردار وضع کرے۔

بدھ 12 رمضان المبارک 1438 ہجری­ 07 جون 2017ء   شمارہ: (14071)