واشنگٹن اور ماسکو کے مابین درعا میں جنگ بندی

"عراقی عوامی فوج” تنف کے بالمقابل   بيروت – بغداد – ماسکو – لندن: "الشرق الاوسط” عمان میں امریکی اور روسی ذمہ داران کے مابین سخت مذاکرات کے بعد کل شام کی حکومتی افواج اور مخالف جنگجوؤں کے مابین درعا میں دو روزہ عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا ہے۔ دریں اث

واشنگٹن اور ماسکو کے مابین درعا میں جنگ بندی
"عراقی عوامی فوج” تنف کے بالمقابل

بيروت – بغداد – ماسکو – لندن: "الشرق الاوسط”

عمان میں امریکی اور روسی ذمہ داران کے مابین سخت مذاکرات کے بعد کل شام کی حکومتی افواج اور مخالف جنگجوؤں کے مابین درعا میں دو روزہ عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا ہے۔ دریں اثناء "عراقی عوامی فوج” الولید نامی سرحدی راہداری کے قریب پہنچ گئی ہے، جو کہ واشنگٹن کے حمایت یافتہ عسکری کیمپ تنف کے بالمقابل واقع ہے۔

شام کے سرکاری خبر رساں ادارے (سانا) نے شامی حکومت کی فوج کا بیان نقل کرتے ہوئے کہا ہے کہ درعا میں کل درپہر سے 48 گھنٹوں کے لئے کاروائی کو روک دیا گیا ہے اور واشنگٹن نے فائر بندی کی تعریف کرتے ہوئے دمشق کو اپنی ذمہ داری پوری کرنے کو کہا ہے اور مخالف جماعتوں سے حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب ماسکو میں اسرائیلی سفیر ہیری کورین نے یقین دہانی کی ہے کہ تل ابیب روس کے ساتھ خاص طور سے جنوبی شام میں "پرامن علاقوں” کے قیام پر مشاورت جاری رکھے ہوئے ہے۔

اتوار 23 رمضان المبارک 1438 ہجری ­ 18 جون 2017ء  شمارہ: (14082)