بادیہ نامی جنگ میں روسی اور ایرانی بیڑے کی مداخلت

لندن: ابراہیم حمیدی روسی فوج نے دمشق کے مشرق میں ایک فوجی اڈہ بنانا شروع کر دیا ہے اور لازقیہ میں حمیحم ایئرپورٹ اور شامی ساحل پر طرطوس بندرگاہ کے بعد یہ اس کا تیسرا وجود ہے اور یہ اس وقت ہوا ہے جب ایران کے پاسداران انقلاب نے دمشق کے […]

بادیہ نامی جنگ میں روسی اور ایرانی بیڑے کی مداخلت

لندن: ابراہیم حمیدی

روسی فوج نے دمشق کے مشرق میں ایک فوجی اڈہ بنانا شروع کر دیا ہے اور لازقیہ میں حمیحم ایئرپورٹ اور شامی ساحل پر طرطوس بندرگاہ  کے بعد یہ اس کا تیسرا وجود ہے اور یہ اس وقت ہوا ہے جب ایران کے پاسداران انقلاب نے دمشق کے مشرقی ایئرپورٹ پر قبضہ کر لیا تھا اور اس کا مقصد عراق، اردن اور شام کی مثلث سرحدوں پر ہونے والی بادیہ نامی جنگ میں شرکت کرنا ہے۔

شامی مخالف جماعتوں کے ذرائع نے ان رپورٹ کی تصدیق کی ہے جنہیں ڈیپکا نامی انٹیلیجنس ویب سائٹ نے نشر کیا تھا۔ اس میں اس بات کی اطلاع دی گئی تھی کہ روسی فوج نے دمشق کے مشرق میں بئر القصب کے قریب وعر کے بالائی حصہ میں واقع خربہ علاقہ میں ایک فوجی اڈہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ اس فوجی اڈہ کی اہمیت اس طرح ہے کہ یہ دمشق سے 50 کیلو میٹر، جولان سے 85 کیلو میٹر اور جنوب ہضبہ سے 110 کیلو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔ اسی طرح یہ اردن سے 96 کیلو میٹر اور عراق سے قریب امریکی فوج کے ماتحت تنف کیمپ سے 185 کیلو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔

پیر 2 شوال 1438 هـ ­ 26 جون 2017ء  شمارہ: (14090)