"نئے وائرس تاوان” کا مغرب میں بڑے پیمانے پر حملہ
یورپ اور امریکہ کہ ادارے اور کمپنیاں اس حملے کا ہدف – اور سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والا ملک یوکرائن لندن: اسامہ نعمان کل کئی ایک مغربی ممالک میں مخلتف اداروں اور کمپنیوں کو نئے انفارمیشن (وائرس) حملے کا سامنا رہا، جس کا ہدف "تاوان کا مطالبہ” کرنا تھا۔ اس حملے نے […]
یورپ اور امریکہ کہ ادارے اور کمپنیاں اس حملے کا ہدف – اور سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والا ملک یوکرائن

لندن: اسامہ نعمان
کل کئی ایک مغربی ممالک میں مخلتف اداروں اور کمپنیوں کو نئے انفارمیشن (وائرس) حملے کا سامنا رہا، جس کا ہدف "تاوان کا مطالبہ” کرنا تھا۔ اس حملے نے ذہنوں کو ایک بار پھر گذشتہ ماہ میں ہونے والے وائرس حملے کی یاد دلا دی جس سے 150 سے زائد ممالک کے 2 لاکھ افراد نشانہ بنے تھے۔
یہ حملہ روس اور یوکرائن میں ایک "پیٹیا” نامی وائرس سے شروع ہوا پھر کئی ایک مغربی ممالک میں منتقل ہوگیا۔ اس وائرس حملے میں سب سے زیادہ یوکرائن متاثر ہوا۔ اس وائرس حملے سے یوکرائن کی وزارتیں، بینک اور کئی ایک کمپنیاں متاثر ہوئیں۔ یوکرائن کے وزیر اعظم وولڈی میر گراسمین نے فیس بک پر لکھا ہے کہ ان کے ملک میں یہ وائرس حملے "پہلی بار ہوئے ہیں”، لیکن انہوں نے یقین دہانی کی کہ "اہم نظام اس سے متاثر نہیں ہوئے ہیں”۔ یوکرائن کے مرکزی بینک نے کہا ہے کہ بہت سے بینک اس انفارمیشن وائرس حملے سے متاثر ہوئے ہیں، جس سے اے ٹی ایم مشینیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ مرکزی بینک نے کہا ہے کہ اس حملے کی وجہ سے "بہت سے بینکوں کو کسٹمر کو بنکنگ خدمات فراہم کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے”۔