قطر کے خلاف اقدامات کی دوسری لہر کی علامات
"قطر کے ساتھ معاملات کے لئے مستقبل کے لائحہ عمل” پر تبادلۂ خیال کی خاطر چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس رياض: عبد الہادی حبتور – دمام: "الشرق الاوسط” قطر کا سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر کی جانب سے پیش کردہ مطالبات کا جواب دینے سے انکار کرن
"قطر کے ساتھ معاملات کے لئے مستقبل کے لائحہ عمل” پر تبادلۂ خیال کی خاطر چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس

رياض: عبد الہادی حبتور – دمام: "الشرق الاوسط”
قطر کا سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر کی جانب سے پیش کردہ مطالبات کا جواب دینے سے انکار کرنے اور ان مطالبات کا جواب دینے کی دس روزہ مہلت کے کل ختم ہونے کے بعد، اب چاروں ممالک دوحہ کا دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے کی وجہ سے اس کے خلاف اقدامات کا دوسرا راؤنڈ شروع کرنے جا رہے ہیں۔
جبکہ دوحہ نے یقین دہانی کی ہے کہ وہ آج اپنا جواب کویت کو دے دیگا۔ دوسری جانب کل اعلان کیا گیا ہے کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر کے وزرائے خارجہ آئندہ بدھ کے روز قاہرہ میں جمع ہو رہے ہیں۔ اس اجلاس کا مقصد "موقف کو مضبوط بنانا، قطر کے ساتھ معاملات کے لئے مستقبل کے لائحہ عمل پر مشاورت کرنا اور اس کے تناظر میں علاقائی و بین الاقوامی رابطوں کے بارے میں اپنے خیالات پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا”۔
خلیجی اور مصر ی ماہرین معاشی اور سفارت کاروں نے پیش گوئی کی ہے کہ قطر کی معیشت کو نئے اقدامات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جن میں قطری بینکوں میں ان کے اثاثوں کی واپسی اور ان چار ممالک میں قطری بینکوں کی شاخوں کے لائسنس کینسل کرنا شامل ہیں۔