لیبیا میں افواج کا نقشہ – اور بنغازی کے بعد حفتر کس سمت میں

  لندن: كميل الطويل لیبیا میں تین سالہ جنگ کے بعد، "لیبیا نیشنل آرمی” کے کمانڈر مارشل خلیفہ حفتر کی افواج بنغازی کاروائی میں کامیاب ہوگئیں ہیں۔ یاد رہے کہ بنغازی وہ شہر ہے جہاں سے کرنل معمر قذافی کی حکومت کے خلاف سنہ 2011 میں انقلاب کی چنگاری اٹھی تھی۔ حفتر […]

لیبیا میں افواج کا نقشہ – اور بنغازی کے بعد حفتر کس سمت میں

لندن: كميل الطويل

لیبیا میں تین سالہ جنگ کے بعد، "لیبیا نیشنل آرمی” کے کمانڈر مارشل خلیفہ حفتر کی افواج بنغازی کاروائی میں کامیاب ہوگئیں ہیں۔ یاد رہے کہ بنغازی وہ شہر ہے جہاں سے کرنل معمر قذافی کی حکومت کے خلاف سنہ 2011 میں انقلاب کی چنگاری اٹھی تھی۔ حفتر کی افواج دو روز قبل عسکریت پسندوں کے زیر کنٹرول آخری مضافاتی علاقے الصابری پر کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی ہیں۔

بھاری انسانی اور مادی نقصان کے باوجود بنغازی میں حفتر کی فتح ان کی اگلی منزل کے بارے میں بہت سے سوالات اٹھاتی ہے۔ چنانچہ بقیہ مخالفین اور قومی فوج کے مابین تصادم کے امکانات ہیں، اب چاہے یہ مشرقی لیبیا میں "القاعدہ” اور دیگر عسکریت پسندوں کے حامیوں کے گڑھ درنہ میں ہوں یا اس کے مغرب میں سرت، بنی ولید اور طرابلس کے علاقے میں؛ جہاں فائز سراج کی قیادت میں وفاقی حکومت نواز افواج پھیلی ہوئیں ہیں۔

جمعہ – 13 شوال 1438 ہجری – 07 جولائی 2017ء  شمارہ: (14101)