موصل کے داعش اہلکاروں کی اہلیائیں خیموں میں بے یار وممدگار
برطلہ شمال عراق: "الشرق الاوسط” عراق کے بڑے حصوں پر داعش کی حکومت ختم ہونے کے ساتھ ساتھ یہ سوال اٹھ رہے ہیں کہ اب ان لوگوں کی فیملیوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا جنہوں نے موصل میں جنگ کیا تھا اور اب ان کی فیملیاں عراقی فوجیوں کی […]

برطلہ شمال عراق: "الشرق الاوسط”
عراق کے بڑے حصوں پر داعش کی حکومت ختم ہونے کے ساتھ ساتھ یہ سوال اٹھ رہے ہیں کہ اب ان لوگوں کی فیملیوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا جنہوں نے موصل میں جنگ کیا تھا اور اب ان کی فیملیاں عراقی فوجیوں کی نگرانی میں خیموں کے اندر زندگی گزار رہی ہیں۔
گزشتہ ہفتہ عورتوں اور بچوں پر مشتمل اپنے خاندان اکیس فرد کے ساتھ بھاگنے والی باسٹھ سال کی ام حمودی کہتی ہیں کہ سارے مرد قتل کئے جاچکے ہیں اور روئٹر ایجنسی کے مطابق ان کے شوہر پرانے شہر میں جنگ کے دوران زخمی ہو گئے اور ان کو وہیں چھوڑ دیا گیا ہے۔
اب پناہگزیں موصل کی طرف واپس آ رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اب ہمارے درمیان سخت مزاج رشتہ داروں کو رہنے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔
منگل – 24 شوال 1438 ہجری – 18 جولائی 2017ء شمارہ: (14111)