عظیم عرب شاعر "متنبی” کی مشہور راہ فرار پر سعودی ماہر کی تحقیق
رياض: بدر الخريف ایک بے مثال کام کرتے ہوئے سعودی عرب کے ایک ماہر نے 1155 سال قبل شاعر "ابو طیب متنبی” کی مصر کے علاقے فسطاط سے عراق کے علاقے کوفہ تک کی راہ فرار کو بہت درست انداز میں متعین کیا ہے۔ یہ وہ راہ فرار ہے جسے عرب کی تاریخ […]

رياض: بدر الخريف
ایک بے مثال کام کرتے ہوئے سعودی عرب کے ایک ماہر نے 1155 سال قبل شاعر "ابو طیب متنبی” کی مصر کے علاقے فسطاط سے عراق کے علاقے کوفہ تک کی راہ فرار کو بہت درست انداز میں متعین کیا ہے۔ یہ وہ راہ فرار ہے جسے عرب کی تاریخ کے مشہور ناقد اور عظیم شاعر متنبی نے کئی ماہ میں طے کیا۔ علاوہ ازیں اسے ایک دلچسپ شخصیت کی جانب سے عرب کی تاریخ میں شور بپا کرنے والے کردار کی "سیاسی راہ فرار” بھی کہا جا سکتا ہے۔
یہ کامیابی سعودی عرب کے ایک ماہر زبان و ادب ڈاکٹر عبد العزیز المانع نے حاصل کی ہے، جو کہ 1155 سال قبل کافور الاخشیدی کے زمانے میں متنبی کی فسطاط سے اپنی جائے رہائش کوفہ کی جانب راہ فرار اختیار کرنے کے بارے میں ہے۔
متنبی کا تقریبا 4 ماہ پر مشتمل یہ سفر 19 جنوری 962ء سے شروع ہو کر اسی سال 3 مئی کو ختم ہوا۔ ان کا یہ سفر مصر میں 5 سالہ رہائش کے بعد تھا، جس کی الاخشیدی نے تعریف کی ہے اور اس تمام عرصے کے دوران وہ ان کی عیب جوئی کے خوف اور انہیں فرار ہونے سے روکنے کے لئے تمام وقت متنبی پر نظر رکھتے تھے۔