مصر دہشت گردی میں ملوث ملازمین کو برخواست کرنے کا قانون تیار کر رہا ہے
قاہرہ: ولید عبد الرحمن مصر ایک ایسی قانون کی منظوری کی کوشش کر رہا ہے، جس کے تحت ایسے سرکاری ملازمین جو عدالتی فیصلوں کے مطابق دہشت گردی کی فہرست میں شامل ہیں یا تشدد پسند جرائم اور قتل میں ملوث ہیں انہیں نوکریوں سے برخواست کر دیا جائے گا۔ پارلیمانی ذرائع نے […]

قاہرہ: ولید عبد الرحمن
مصر ایک ایسی قانون کی منظوری کی کوشش کر رہا ہے، جس کے تحت ایسے سرکاری ملازمین جو عدالتی فیصلوں کے مطابق دہشت گردی کی فہرست میں شامل ہیں یا تشدد پسند جرائم اور قتل میں ملوث ہیں انہیں نوکریوں سے برخواست کر دیا جائے گا۔
پارلیمانی ذرائع نے کہا ہے کہ "ایوان نمائندگان نے اس نئے قانون کو حتمی شکل دے دی ہے اور نئے سیشن کے دوران کی پر منظوری کے منتظر ہیں”۔ ذرائع نے مزید کہا کہ "پارلیمنٹ کے وضع کردہ طریقہ کار کے تحت دہشت گرد جماعت اخوان، دہشت گرد تنظیم داعش، اسلامی جماعت اور دیگر جہادی تنظیمات کے عناصر کا ڈیٹا سینٹرل آرگنائزیشن اور سیکورٹی ادارے کے تعاون سے تحقیقاتی مرحلے سے گزرنے کے بعد ثابت ہوگا کہ آیا یہ ملازم کسی دہشت گرد تنظیم سے منسلک ہے، اگر اس کا تعلق ثابت ہوگیا تو اسے عدلیہ کے مطابق ضروری قانونی سزا دی جائے گی”۔
نگران اداروں کے مطابق تقریبا 5 ہزار کے قریب "اخوانی” ملازمین ریاستی اداروں میں کام کرتے ہیں، جن میں سے بعض اہم عہدوں پر فائز ہیں۔ جو کہ دوسروں کے برعکس تنظیم داعش کے افکار کو فروغ دیتے ہیں اور دیگر دہشت گرد جماعتوں اور تنظیموں سے تعلق رکھتے ہیں جیسے "ریاست سینا” جماعت، جس کے عناصر کا شمار ابھی تک نہیں کیا جا سکا اور نہ ہی سرکاری طور پر ان کا کوئی اعداد وشمار ہے۔