میانمر (برما) پر بین الاقوامی دباؤ اور 87،000 روہنگیا تشدد کے باعث فرار
لندن – ڈھاکہ: الشرق الاوسط” ایشیائی مسلم ممالک نے میانمر (برما) حکومت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی ہے کہ وہ روہنگیا مسلم اقلیت پر مظالم کو روکے۔ دریں اثناء اقوام متحدہ کے اعلان کے مطابق 87،000 افراد روہنگیا افراد تشدد سے بچنے کے لئے راخین کے علاقے سے بنگلہ دیش کی جانب […]

لندن – ڈھاکہ: الشرق الاوسط”
ایشیائی مسلم ممالک نے میانمر (برما) حکومت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی ہے کہ وہ روہنگیا مسلم اقلیت پر مظالم کو روکے۔ دریں اثناء اقوام متحدہ کے اعلان کے مطابق 87،000 افراد روہنگیا افراد تشدد سے بچنے کے لئے راخین کے علاقے سے بنگلہ دیش کی جانب فرار ہوگئے ہیں۔
کل جزائر مالدیپ نےبرما کے ساتھ تمام تر تجارتی تعلقات اس وقت تک منقطع کرنے کا اعلان کیا ہے جب تک کہ اس ملک کی حکومت مسلم روہنگیا کے خلاف ہونے والے مظالم کو روکنے کے لئے اقدامات نہیں کرتی۔ اسی ضمن میں انڈونیشیا کے وزیر خارجہ ریٹنو مرچوڈی نے اس بحران کے کنٹرول کے لئے برما حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لئے کل ناپیدوا میں برما کے فوجی سربراہ جنرل مین اونگ ہلنگ سے ملاقات کی۔ جبکہ کل انڈونیشیا کے صدر گوکو ویڈوڈو نے کہا کہ "بار بار، تشدد اور انسانی بحران کو فوری طور پر روکنا چاہیے”۔
اسی طرح پاکستانی وزارت خارجہ نے اپنی رپورٹ میں "روہنگیا مسلمانوں کے بڑھتے ہوئے قتل عام اور انہیں زبردستی بے گھر کرنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے”۔ چنانچہ پاکستانی وزارت نے برما کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روہنگیا مسلم اقلیت کے خلاف ظالمانہ کاروائیوں پر تحیقیق کا آغاز کرے۔