عراق میں "داعش” کے خاندانوں کا نامعلوم مستقبل
موصل کے قریب ایک کیمپ میں 13 ممالک کی شہریت کے حامل 1400 غیر ملکی خواتین اور بچے موصل: "الشرق الاوسط” عراقی حکام کی جانب سے "داعش” کے افراد کی ہلاکت کے بعد، اب عراق کے شہر موصل کے جنوب میں واقع ایک کیمپ میں زیر حراست ان مسلح (داعش) افراد کی 1400 […]
موصل کے قریب ایک کیمپ میں 13 ممالک کی شہریت کے حامل 1400 غیر ملکی خواتین اور بچے

موصل: "الشرق الاوسط”
عراقی حکام کی جانب سے "داعش” کے افراد کی ہلاکت کے بعد، اب عراق کے شہر موصل کے جنوب میں واقع ایک کیمپ میں زیر حراست ان مسلح (داعش) افراد کی 1400 غیر ملکی بیویوں اور بچوں کا مستقبل تاریک ہے۔ عراقی فوج اور انٹیلی جنس افسران کے مطابق زیر حراست ان خواتین کا تعلق 13 ممالک سے ہے، جن میں سابق سوویت یونین کے ممالک جیسے تاجکستان، آزربیجان، روس سمیت ایشیائی ممالک شامل ہیں، علاوہ ازیں فرانس اور جرمنی سے تعلق رکھنے والوں کی تعداد "انتہائی کم” ہے۔
"رویٹرز” ایجنسی کے صحافیوں نے سینکڑوں بچوں اور خواتین کو کسی بھی ایئر کولر کے بغیر خیموں میں چٹائیوں پر بیٹھے ہوئے دیکھا، جس پر کیڑے مکوڑے تھے، جبکہ امدادی کارکنوں کے مطابق یہ "فوجی مقام” کے اندر ہے۔ زیر حراست یہ خواتین ترکی، فرانسیسی اور روسی زبان میں بات کرتی تھیں۔