روس کے سب سے بڑے فوج مشق کی وجہ سے یورپ پریشان
ماسکو: طہ عبد الواحد روس اور بیلاروس نے کل دونوں ملکوں کے درمیان "ویسٹ 2017 ” نامی بڑے مشق کے پہلے مرحلہ کا آغاز کر دیا ہے اور اس کے بارے میں مغربی تجزیہ نگاروں نے کہا ہے کہ یہ سرد جنگ کے بعد سب بڑا مشق ہے۔ […]

ماسکو: طہ عبد الواحد
روس اور بیلاروس نے کل دونوں ملکوں کے درمیان "ویسٹ 2017 ” نامی بڑے مشق کے پہلے مرحلہ کا آغاز کر دیا ہے اور اس کے بارے میں مغربی تجزیہ نگاروں نے کہا ہے کہ یہ سرد جنگ کے بعد سب بڑا مشق ہے۔
جبکہ ماسکو نے کہا کہ یہ مشقیں دفاعی ہیں اور اس سے کسی بھی فریق کو نشانہ بنانا مقصود نہیں ہے۔ جرمن کے وزیر دفاع ارسلا وون ڈر لین نے ماسکو پر مشق میں مشترکہ فوج تیار کر کے مخصوص وینا معاہدہ کی پامالی کرنے کا الزام لگایا ہے۔ اسی وقت انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ "ویسٹ 2017 ” مشق میں روس اور بلاروس کے ایک سو ہزار فوجی شریک ہوں گے اور روس نے اس بات سے یہ کہتے ہوئے انکار کیا ہے کہ یہ مشارکت ان سرحدوں کے دائرہ میں جن پر معاہدہ ہوا ہے۔
جمعہ – 24 ذی الحجة 1438 ہجری – 15 ستمبر 2017ء شمارہ نمبر: (14170(