ٹرمپ کے پاس ایران سے نمٹنے کے لئے کئی ایک آپشن
لندن: امير طاہری ایک سال قبل، نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس، ایران اور امریکہ کے درمیان ایک فیسٹیول کا منظر پیش کر رہا تھا، جہاں سابقہ دونوں دشمنوں نے ایک دوسرے کے لئے محبت کے اشارے دیئے۔ اس ظاہری محبت کے جذبے کی اصل وجہ اسلامی جمہوريہ ایران […]

لندن: امير طاہری
ایک سال قبل، نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس، ایران اور امریکہ کے درمیان ایک فیسٹیول کا منظر پیش کر رہا تھا، جہاں سابقہ دونوں دشمنوں نے ایک دوسرے کے لئے محبت کے اشارے دیئے۔
اس ظاہری محبت کے جذبے کی اصل وجہ اسلامی جمہوريہ ایران کے متنازعہ ایٹمی پروگرام سے متعلق 176 صفحات پر مشتمل "مشترکہ جامع ایکشن پلان” کے نام سے سرکاری جوہری سمجھوتے کی فہرست تھی۔
لیکن اس سال پرانے شیطان دوبارہ واپس لوٹ کر اس وقت ظاہر ہوئے جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایرانی حکومت کو دہشت گردی کا برآمد کنندہ سے تعبیر کیا۔ جبکہ ان کے ایرانی ہم منصب حسن روحانی نے اس "سلام” کا اسی انداز میں جواب دیا۔ انہوں نے امریکی صدر کو "سیاسی بدمعاش” سے تعبیر کیا۔