ترکی میں شامی پناہگزیں افراد کے بچوں کی تعلیم وتربیت
انقرہ: سعید ب الرازق وزارت تعلیم کےذمہ داروں نے اطلا دی ہے کہ اسی ماہ کے 18 تاریخ سے شروع ہونے والے تعلیمی سیشن کے ساتھ ہی شامی پناہگزیں ترکی کے مدارس میں تعلیمی نظام کے اندر برابر کا درجہ پائیں گے لیکن تعلیم ہی ایک پریشانی نہیں ہے بلکہ اکثر […]

انقرہ: سعید ب الرازق
وزارت تعلیم کےذمہ داروں نے اطلا دی ہے کہ اسی ماہ کے 18 تاریخ سے شروع ہونے والے تعلیمی سیشن کے ساتھ ہی شامی پناہگزیں ترکی کے مدارس میں تعلیمی نظام کے اندر برابر کا درجہ پائیں گے لیکن تعلیم ہی ایک پریشانی نہیں ہے بلکہ اکثر وبیشتر بچے سخت حالات سے گزر رہے ہیں اور تعلیم کا اہل بنانے کے لئے انہیں سخت محنت کی ضرورت ہے لیکن علاقائی تنظیموں کی طرف سے کی جانے والی مدد محدود ہی رہیں گی اور اس معاملہ میں سب برابر ہیں خواہ ترکی تنظیم کی مدد ہو یا ترکی کے اندر قائم ہونے والی شامی مدد ہو یا شامیوں کے لئے پیش کرنے کی کوشش کرنے والے دوسرے علاقے کی طرف سے مدد ہوں۔
تعلیم سے محروم ہونے والے شامی بچوں کی تعداد 300 ہزار پہنچ چکی ہے جبکہ شامی پناہ گزیں افراد کے بچوں کی کل تعداد 620 ہزار ہے اور خود پناہگزینوں کی تعداد تقریبا تین ملین ہے اور ان میں صرف 300 ہزار افراد خیموں میں ہیں جبکہ باقی افراد شہروں میں زندگی گزار رہے ہیں اور شامی بچوں کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو لازمی تعلیم کے مرحلہ میں ہیں اور ان کی نسبت 60 ہے لیکن یہ بچے تعلیم کے مناسب حالات نہ ہونے کی وجہ سے اسکول کے باہر ہیں۔
پیر – 5 محرم الحرام 1439 ہجری – 25 ستمبر 2017 ء شمارہ نمبر: (14181)