شامی زیر کنٹرول علاقوں میں زبانوں کا تنازعہ
حکومتی سکولوں میں روسی اور فارسی زبانوں کے مابین اور شمال میں ترکی اور کردی زبانوں کے مابین مقابلہ بيروت ـ انقرہ ـ دمشق ـ لندن: "الشرق الاوسط” حالیہ وقت میں شام کے زیر کنٹرول علاقوں میں ممالک کے مابین زبان کے بارے میں مقابلہ بازی اور اپنی موجودگی کو گہرا کرنے کی […]
حکومتی سکولوں میں روسی اور فارسی زبانوں کے مابین اور شمال میں ترکی اور کردی زبانوں کے مابین مقابلہ

بيروت ـ انقرہ ـ دمشق ـ لندن: "الشرق الاوسط”
حالیہ وقت میں شام کے زیر کنٹرول علاقوں میں ممالک کے مابین زبان کے بارے میں مقابلہ بازی اور اپنی موجودگی کو گہرا کرنے کی جدوجہد جاری ہے، چاہے یہ سلسلہ "کشیدگی کم کرنے” کے معاہدے کے ضمن میں ہو یا حکومتی سکول ہوں یا پھر مخالف جماعتوں کے زیر کنٹرول علاقے۔
حکومتی علاقوں میں اور دمشق کے مضافات میں رہنے والے غریبوں میں تہران کی کوشش ہے کہ وہ فارسی زبان اور اپنے ثقافتی ادارے پھیلائے۔ جبکہ روس جو ان دنوں اپنی فوجی مداخلت کی دوسری سالگرہ منا رہا ہے، اس کی کوشش ہے کہ روسی ثقافتی مراکز کا احیا کرنے کے علاوہ سرکاری سکولوں میں روسی زبان کو پھیلائے اور خاص طور پر ملک کے مغربی ساحل پر لاذقیہ اور طرطوس کے قریب حمیمیم میں اپنی فوجی چھاؤنیوں کے قریب۔ جبکہ حکومت کی دلچسپی دمشق میں امریکی اور فرانسیسی سکولوں میں کم پائی جاتی ہے جہاں انگریزی اور فرانسیسی دو زبانوں میں تدریس ہوتی ہے۔