اسلام میں اصطلاح "سیاست” کی حقیقت
ریاض: "الشرق الاوسط " لبنان کے محقق رضوان السید کا کہنا ہے کہ مذاہب اربعہ کے فقہائے اسلام نے سیاست کی اصطلاح کو چوتھی صدی ہجری ہی میں استعمال کیا ہے اور انہوں نے بیان کیا ہے کہ ان کی نگاہ میں سیاست کا مفہوم چند اسباب ووجوہات کی بنیاد پر […]

ریاض: "الشرق الاوسط "
لبنان کے محقق رضوان السید کا کہنا ہے کہ مذاہب اربعہ کے فقہائے اسلام نے سیاست کی اصطلاح کو چوتھی صدی ہجری ہی میں استعمال کیا ہے اور انہوں نے بیان کیا ہے کہ ان کی نگاہ میں سیاست کا مفہوم چند اسباب ووجوہات کی بنیاد پر مختلف ہے اور انہوں نے اس سیاست کے مفہوم کو عام معاملہ کی ترتیب اور سیاسی امور سے مختلف گردانا ہے بلکہ انہوں نے تو اسے فقہی اور عدالتی معنی میں قانون کے مقابلہ میں رکھا ہے بلکہ تعزیر اور عام مفادات کے مقابلہ میں بھی رکھا ہے۔
السید نے ریسرچ اینڈ اسلامک اسٹدیز شاہ فیصل سنٹر سے حال ہی میں چھپے "اسلامی میدان میں سیاست اور شرعی سیاست ملک وملت کےامور کی تدبیر کرنا ہے” کے نام سے اپنے ایک مقالہ میں لکھا ہے کہ اصطلاح سیاست کا اس زمانہ میں استعمال کرنا اور اس کے استعمال کے سمجھنے اور اس کو نافذ کرنے میں جو کمی آئی ہے اس کی وجہ سے قانون اور شریعت کی مرجعیت اور اس کی جدیت اور قانون سازی کے سلسلہ میں تردد ہے اور اس کے علاوہ موجودہ اسلامی سماج میں بعض مشکلات بھی ہیں جیسے کہ ان سماج میں غیر مسلم بھی ہیں اور اسی وجہ سے موجودہ حکومت میں وطنیت کی بنیاد مساوات اور برابری پر قائم کرنے کا تقاضہ ہے جیسا کہ بعض قانونداں حضرات کا ماننا ہے۔
جمعرات – 8 محرم الحرام 1439 ہجری – 28 ستمبر 2017 ء شمارہ نمبر: (14184)