اربیل کی طرف سے بغداد کی پابندیوں کا انکار اور گفتگو کا مطالبہ
اربیل – انقرہ: "الشرق الاوسط” کل کردستان کی پارلیمنٹ نے ایک ہنگامی اجلاس میں ان بارہ مطالبوں کا انکار کیا ہے جسے عراقی پارلیمنٹ نے پیش کیا تھا اور ان مطالبوں میں سرحدی گزرگاہوں اور فضائی راستوں کو حوالہ کرنے کی بات کہی گئی تھی۔ اسی طرح علاقہ کی حکومت نے […]

اربیل – انقرہ: "الشرق الاوسط”
کل کردستان کی پارلیمنٹ نے ایک ہنگامی اجلاس میں ان بارہ مطالبوں کا انکار کیا ہے جسے عراقی پارلیمنٹ نے پیش کیا تھا اور ان مطالبوں میں سرحدی گزرگاہوں اور فضائی راستوں کو حوالہ کرنے کی بات کہی گئی تھی۔ اسی طرح علاقہ کی حکومت نے اربیل اور سلیمانیہ ایئرپورٹ کی نگرانی کے لئے بغداد کی طرف سے ہر فوجی اور پولس اہلکار کا انکار کیا ہے لیکن اس نے بغداد کے ساتھ گفتگو کرنے کے طریقہ کو پیش کیا ہے۔
کردستانی پارلیمنٹ کے ارکان کے سامنے علاقائی ٹرانسپورٹیشن کے وزیر مولود باومراد نے اربیل اور سلیمانیہ ایئرپورٹ سے آنے اور جانے والے تمام اسفار کے موقوف ہونے کی تصدیق کی ہے اور حکومت بغداد کی اس کاروائی کو سیاسی سزا سے تعبیر کیا ہے اور انہوں نے پرزور انداز میں کہا کہ کردستان کسی بھی شخص کو یہ اجازت نہیں دے سکتا ہے کہ وہ اس کے ایئرپورٹ کے معاملوں میں دخل اندازی کرے۔ انہوں نے کہا کہ عراقی حکومت کے فیصلوں کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے اور اس کا شہری جہاز سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔
اتوار – 10 محرم الحرام 1439 ہجری – 1 اکتوبر 2017 ء شمارہ نمبر: (14187)