قطر کی طرف سے شہریت ختم کرنے کے عمل پر انسانی حقوق کی تنظیموں کی تنقید

  لندن: "الشرق الاوسط” انسانی حقوق کی تنظیموں نے قطر پر تنقید کی ہے جس نے اپنے ان شہریوں کی شہریت ختم کر دی ہے جنہوں نے خلیجی بحران کے بارے میں اپنی رائے پیش کی ہے۔ "انسانی حقوق کے لئے عرب فیڈریشن” کے سربراہ ڈاکٹر احمد ہاملی نے "الشرق الاوسط” کو بتای

قطر کی طرف سے شہریت ختم کرنے کے عمل پر انسانی حقوق کی تنظیموں کی تنقید

لندن: "الشرق الاوسط”

انسانی حقوق کی تنظیموں نے قطر پر تنقید کی ہے جس نے اپنے ان شہریوں کی شہریت ختم کر دی ہے جنہوں نے خلیجی بحران کے بارے میں اپنی رائے پیش کی ہے۔

"انسانی حقوق کے لئے عرب فیڈریشن” کے سربراہ ڈاکٹر احمد ہاملی نے "الشرق الاوسط” کو بتایا کہ قطر کی طرف سے اپنے شہریوں کے خلاف یہ اقدام تعجب اور تشویش پیدا کرتا ہے کیونکہ شہریت کے حقوق کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہوتے اور خاص طور پر جب آزادئ رائے کی بات ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ قطر میں شہریت ختم کرنے کے واقعات بغیر کسی عدالتی حکم نامے یا قانونی شق کے ہیں۔ ہاملی نے زور دیا کہ شہریت ختم کرنے کے اقدام پر اقوام متحدہ نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور نشاندہی کی ہے کہ سیاسی معاملات میں شہریوں کے حقوق شامل ہونے کی وجہ سے یہ بات تمام بین الاقوامی تنظیموں کے لئے باعث تشویش ہے۔

انہوں نے کہا کہ قطر کا عرب قبیلوں اور خاص طور پر "آل مرہ” اور "ہواجر” کو بے گھر کرنا قطر کی پالیسیوں کے منافی ہے، کیونکہ اس کا دعوی ہے کہ وہ آزادئ رائے کی حمایت کرتا ہے۔ "عرب فیڈریشن” نے شاعر محمد بن فطیس کی شہریت ختم کرنے اور شعرا و دیگر دانشوروں کے خلاف بدسلوکی کے اقدامات پر قطر حکومت کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

پیر- 12 محرم 1439 ہجری- 02 اكتوبر 2017ء شمارہ: (14188)