آزادی کے میمورنڈم

علاقہ کی سرحدوں کو تبدیل نہ کرنے پر ایرانی اور ترکی معاہدہ

روحانی کی طرف سے شام وعراق کی علیحدگی کے مقابلہ کے سلسلہ میں دونوں ملکوں کے پرعزم ہونے کا اعلان اور اردوغان کی طرف سے مشترکہ کاروائی کرنے کا اعلان لندن: عادل السالمی کل ترکی اور ایرانی رہنماء نے گزشتہ ماہ صوبہ کی طرف سے ہونے والے آزادی کے میمورنڈم کے […]

علاقہ کی سرحدوں کو تبدیل نہ کرنے پر ایرانی اور ترکی معاہدہ
روحانی کی طرف سے شام وعراق کی علیحدگی کے مقابلہ کے سلسلہ میں دونوں ملکوں کے پرعزم ہونے کا اعلان اور اردوغان کی طرف سے مشترکہ کاروائی کرنے کا اعلان
<strong>روحانی کی طرف سے شام وعراق کی علیحدگی کے مقابلہ کے سلسلہ میں دونوں ملکوں کے پرعزم ہونے کا اعلان اور اردوغان کی طرف سے مشترکہ کاروائی کرنے کا اعلان</strong>

لندن: عادل السالمی

کل ترکی اور ایرانی رہنماء نے گزشتہ ماہ صوبہ کی طرف سے ہونے والے آزادی کے میمورنڈم کے بعد عراقی کردستان کے الگ ہونے کے سلسلہ میں از سر نو تنبیہ کیا ہے اور دونوں رہنماؤں نے علاقہ کی جغرافیائی سرحد کو تبدیل نہ کرنے پر معاہدہ کیا ہے۔

ایرانی مرشد اعلی علی خامنئی نے ریفرینڈم کا انکار کرنے والے مغربی ممالک کے موقف سے خدشہ کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ امریکا اور دیگر طاقتور ممالک کے موقف پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا ہے۔

اسی انداز میں اردوغان نے بھی صوبہ کردستان کے ریفرینڈم پر حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور ترکی نے پرعزم موقف اختیار کیا ہے اور وہ موقف یہ ہے کہ عراق کی مرکزی حکومت قانونی ہے اور ریفرنڈم غیر قانونی ہے۔

جمعرات – 15 محرم الحرام  1439 ہجری – 5  اکتوبر 2017 ء شمارہ نمبر: (14191)