قاہرہ کے معاہدہ کی وجہ سے فلسطینی تقسیم کا ایک نیا رخ
حکومت چھ ہفتوں کے دوران غزہ پٹی اور رفح معبر کو اپنے قبضہ میں لے گی اور عنقریب عباس کی حکومت غزہ پٹی میں نظر آئے گی رام اللہ: کفاح زبون تحریک فتح اور حماس نے کل قاہرہ میں فلسطینی تقسیم کے ایک معاہدہ پر دستخط کرکے دونوں فریقین کے دوران […]
حکومت چھ ہفتوں کے دوران غزہ پٹی اور رفح معبر کو اپنے قبضہ میں لے گی اور عنقریب عباس کی حکومت غزہ پٹی میں نظر آئے گی

رام اللہ: کفاح زبون
تحریک فتح اور حماس نے کل قاہرہ میں فلسطینی تقسیم کے ایک معاہدہ پر دستخط کرکے دونوں فریقین کے دوران ایک اہم مصالحت کا معاہدہ کیا ہے۔ تحریک فتح کے صدر عزام الاحمد نے کہا کہ جس معاہدہ پر انہوں نے تحریک حماس کے سیاسی دفتر کے نائب صدر صالح العاروری کے ساتھ دستخط کیا ہے اس کی وجہ سے قانونی حکومت غزہ پٹی کے اندر صحیح انداز میں پوری صلاحیت کے ساتھ اور مغربی کنارہ میں بنیادی قانون کے مطابق کام کرنا شروع کر دے گی۔
معاہدہ کے اس پہلے اقدام کی وجہ سے جس میں متعین زمنی شیڈول کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے اس سے وفاقی قومی حکومت کو غزہ پٹی کو کم سے کم ایک دستمبر تک اپنے قبضہ میں کر لینے کی اجازت مل جائے گی۔ اس معاہدہ میں اس بات کی تعیین کی گئی ہے کہ غزہ کی ساری گزرگاہیں آئندہ ماہ کے اندر حکومت کے حوالہ کر دی جائیں گی اور رفح نامی گزرگاہ اور مصر کی سرحدوں کو صدارتی گارڈ کے حوالہ کر دیا جائے گا اور اس کی ترتیب قاہرہ کے ساتھ مل کر ہوگی۔۔۔۔ اور اس تقسیم کے خاتمہ کے اعلان کے وقت صدر عباس غزہ کا دورہ بھی کریں گے۔(۔۔۔)
جمعہ – 23 محرم 1439 ہجری – 13 اكتوبر 2017ء شمارہ نمبر: (14199)