بارزانی کی پیشکش کی کوئی قیمت نہیں :”عراقی عوامی فورسز”
بغداد – اربيل: "الشرق الاوسط” عراقی صوبہ کردستان کی حکومت؛ جس کے سربراہ مسعود برزانی ہیں، اس نے بغداد کے ساتھ اپنے بحران کو ختم کرنے کے لئے تین شقوں پر مشتمل ایک تجویز پیش کی ہے، جس میں آزادی کے لئے ہونے والے ریفرنڈم کے نتائج کو منجمد کرنا اہم ترین ہے۔ […]

بغداد – اربيل: "الشرق الاوسط”
عراقی صوبہ کردستان کی حکومت؛ جس کے سربراہ مسعود برزانی ہیں، اس نے بغداد کے ساتھ اپنے بحران کو ختم کرنے کے لئے تین شقوں پر مشتمل ایک تجویز پیش کی ہے، جس میں آزادی کے لئے ہونے والے ریفرنڈم کے نتائج کو منجمد کرنا اہم ترین ہے۔
"تحریک دعوہ”؛ جس سے وزیر اعظم حیدر العبادی منسلک ہیں، اس کے نائب جاسم محمد جعفر نے اس اقدام کو مسترد کیا ہے اور "الشرق الاوسط” کو بتایا کہ "وزیر اعظم نے پہلے بھی (ریفرنڈم نتائج) کے منجمد کرنے کو مسترد کرتے ہوئے اسے ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا”۔ ان کا کہنا ہے کہ "منجمد کرنا ایک قسم کا دھوکہ ہے جس کے معنی درحقیقت ریفرنڈم کو قبول کرنا ہے”۔
دوسری جانب، "عراقی عوامی فورسز” کے ترجمان احمد الاسدی نے کہا ہے کہ "کردستان کے اس اقدام کی کوئی قیمت نہیں، کیونکہ نتائج منجمد کرنے کا مطلب ریفرنڈم کا اعتراف کرنا ہے اور حکومت کا واضح مطالبہ ہے کہ ریفرنڈم کو کینسل کیا جائے”۔ (۔۔۔)