الرقۃ میں ایک معلمہ کی طرف سے داعش کے سلسلہ میں ایک بیان
الرقۃ (شام): کمال شیخو 26 سالہ سحر اسماعیل نامی معلمہ الرقہ شہر کے مغرب میں چار کیلو میٹر کی دوری پر واقع الجزرہ علاقہ کے اسکول میں تقریبا ایک تباہ شدہ بوڈ کے سامنے ساڑھے تین سال پہلے داعش کی طرف سے بند کردہ اسکول کے کھلنے کے ایک ماہ بعد […]

الرقۃ (شام): کمال شیخو
26 سالہ سحر اسماعیل نامی معلمہ الرقہ شہر کے مغرب میں چار کیلو میٹر کی دوری پر واقع الجزرہ علاقہ کے اسکول میں تقریبا ایک تباہ شدہ بوڈ کے سامنے ساڑھے تین سال پہلے داعش کی طرف سے بند کردہ اسکول کے کھلنے کے ایک ماہ بعد کھڑی ہو کر ایک نئی تعلیمی دن کا آغاز کرتی ہے۔(۔۔۔) اس معلمہ کا انتخاب اس اسکول میں سنہ 2012ء میں ہوا تھا لیکن سنہ 2014ء کے آغاز میں اس علاقہ پر داعش کے قبضہ کے بعد اسے اپنا تعلیمی کام چھوڑنے پر مجبور کیا گیا تھا لیکن اس نے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنا مناسب نہیں سمجھا بلکہ اس نے داعش کے پاس موجودہ تعلیمی نظام میں حصہ لینے کے لئے اپنا نام درج کرایا اور اس کا مقصد اپنے گھر میں بچوں کو تعلیم دینے کی اجازت حاصل کرنا تھا۔(۔۔۔) لیکن یہ معلمہ داعش کے ان اہلکار سے بچ کر تعلیم دیتی تھی جو ان گھروں کے ارد گرد گھومتے رہتے جہاں تعلیم دینے کی اجازت ملی تھی۔ اس نے مزید کہا کہ جب ان کی طرف سے کوئی کمیٹی آتی تو میں ان کے سامنے وہ کتاب نکال کر دکھاتی جو وہ چاہتے تھے لیکن حقیقت میں میں بچوں کو شامی منہج کے مطابق کتابیں پڑھایا کرتی تھی۔
جمعہ – 7 صفر 1439 ہجری – 27 اكتوبر 2017ء شمارہ نمبر: (14213)