سہ فریقی معاہدے میں ایران سے بالا تر "پر امن علاقے” کی ضمانت
"الشرق الاوسط” جنوبی شام سے متعلق امریکی روسی اردنی معاہدے کی شقوں کی اشاعت کر رہا ہے لندن: ابراہیم حمیدی امریکی، روسی، اردنی معاہدے کی دستاویز نے انکشاف کیا ہے کہ ماسکو "غیر شامی جنگجوؤں؛ اس سے مراد "حزب اللہ” اور ایرانی ملیشیا ہیں، انہیں شام کے جنوب میں شام
"الشرق الاوسط” جنوبی شام سے متعلق امریکی روسی اردنی معاہدے کی شقوں کی اشاعت کر رہا ہے

لندن: ابراہیم حمیدی
امریکی، روسی، اردنی معاہدے کی دستاویز نے انکشاف کیا ہے کہ ماسکو "غیر شامی جنگجوؤں؛ اس سے مراد "حزب اللہ” اور ایرانی ملیشیا ہیں، انہیں شام کے جنوب میں شام کی حکومتی افواج اور مخالف جماعتوں کے مابین پانچ کلومیٹر پر پھیلے "پرامن علاقے” سے دور رکھنے کے منصوبے پر "فوری عمل درآمد” کا عزم رکھتا ہے۔ یہ دستاویز؛ جس کے مواد کو "الشرق الاوسط” نے دیکھا ہے، اس میں روس کی طرف سے نگرانی کے لئے 10 اور تفتیش کے لئے 2 پوائنٹس قائم کرنا شامل ہے اور اس کے بدلے میں واشنگٹن اور عمان کے ساتھ عہد کیا گیا کہ شام کے جنوب مغرب میں فائر بندی کے علاقوں میں شامی مخالف جماعتوں کے ہمراہ "داعش”، "نصرت فرنٹ” اور "القاعدہ” کے خلاف فوری لڑائی کی کاروائی پر عمل کیا جائے گا۔
گذشتہ ہفتے عمان میں ہونے والے معاہدے میں ایک طرف "نصرت” اور "داعش” کے لئے لڑنے والی مخالف جماعتوں کے ساتھ جنگ جاری رکھنے اور دوسری جانب "غیر شامی افواج” کو "پرامن” علاقے سے نکالنے کا عزم کیا گیا۔ اس معاہدے میں "حزب اللہ” اور ایرانی ملیشیاؤں کا ذکر نہیں کیا گیا، لیکن اس سہ فریقی مذاکرات میں تہران کے ماتحت جماعتوں کے بارے میں واضح طور پر بات کی گئی۔ (۔۔۔)