اسلامی سربراہی اجلاس کا مشرقی بیت المقدس کو فلسطین کی دار الحکومت ماننے کا مطالبہ
انقرة: سعيد عبد الرازق رام الله: كفاح زبون کل استنبول میں ہنگامی اسلامی سربراہی اجلاس نے دنیا کے تمام ممالک کو مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کو فسطین کی دار الحکومت ماننے کا مطالبہ کیا ہے اور دونوں ملکوں کے حل کی بنیاد پر امن وسلامتی قائم کرنے کے لے مذاکرات […]

انقرة: سعيد عبد الرازق رام الله: كفاح زبون
کل استنبول میں ہنگامی اسلامی سربراہی اجلاس نے دنیا کے تمام ممالک کو مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کو فسطین کی دار الحکومت ماننے کا مطالبہ کیا ہے اور دونوں ملکوں کے حل کی بنیاد پر امن وسلامتی قائم کرنے کے لے مذاکرات کے اختیار کو لازم پکڑنے پر زور دیا ہے اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس فیصلہ کو جس میں اس نے بیت المقدس کو اسرائیل کی دار الحکومت قرار دیا اسے باطل سمجا ہے اور کہا ہے کہ واشنگٹن امن وسلامتی کی کاروائی میں ثالثی کا کردار ادا کرنے سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔
اسلامی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے اختتام پر صادر ہونے والے بیان میں پرزور انداز میں کہا گیا ہے کہ ارکان ممالک بین الاقوامی سلامتی کونسل کے متحرک نہ ہونے کی صورت میں اقوام متحدہ میں بیت المقدس کے مسئلہ کو پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔
بیان میں اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ اسلامی ممالک بیت المقدس شہر کے سیاسی یا دینی یا قانونی یا تاریخی صورتحال کے ساتھ چھیڑخانی کرنے کی صورت میں ہر طرح کے اقدامات کا مقابلہ کرنے کا عزم وارادہ رکھتے ہیں اور بیان میں بیت المقدس کے سلسلہ میں امریکی انتظامیہ کے فیصلہ کا انکار کرنے والے بین الاقوامی اتفاق کا استقبال کیا گیا ہے اور اس بیان کو فلسطینی عوام کے حقوق کی مدد کرنے کا پیغام سمجھا گیا ہے۔(۔۔۔)
صدر عباس نے اسلامی اور عربی ممالک کے موقف اور خاص طور پر سعودی عرب کے موقف کو بہت قیمتی گردانا ہے اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ خادم حرمین شریفین شاہ سلمان ابن عبد العزیز نے ان سے ایک ہی بات کہی کہ ایسی فلسطینی حکومت کے ذریعہ حل نہیں ہو سکتا جس کی دار الحکومت بیت المقدس نہ ہو۔(۔۔۔)
جمعرات – 26 ربيع الاول 1439 ہجری – 14 دسمبر 2017ء شمارہ نمبر: (14261)