ایران میں "مہنگائی کے خلاف مظاہرے” آمریت کی مذمت کر رہے ہیں
خطے کے تنازعوں سے نکلنے کے مطالبے ہر مبنی نعرے دیکھنے میں آئے لندن: عادل السالمی کل ایرانی شہریوں نے ملک میں معاشی صورت حال کی خرابی اور مہنگائی کے خلاف کئی شہروں میں مظاہرے کئے جن میں سب سے بڑا مظاہرہ ایران کے دوسرے بڑے شہر مشہد میں دیکھا گیا۔ یہ […]
خطے کے تنازعوں سے نکلنے کے مطالبے ہر مبنی نعرے دیکھنے میں آئے

لندن: عادل السالمی
کل ایرانی شہریوں نے ملک میں معاشی صورت حال کی خرابی اور مہنگائی کے خلاف کئی شہروں میں مظاہرے کئے جن میں سب سے بڑا مظاہرہ ایران کے دوسرے بڑے شہر مشہد میں دیکھا گیا۔
یہ مظاہرے حکومتی پالیسی کے خلاف نعرے بازی سے قبل، بنیادی اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں اضافہ اور حکومت کی طرف سے معاشی امداد روکنے کے باعث شروع ہوئے۔ مظاہرین نے بینر اٹھا رکھے تھے جن پر تحریر تھا کہ: "آمریت کی موت”، "روحانی (ایرانی صدر) کی موت”، "اعتدال پسند حکومت کے کھوکھلے نعرے” اور "گھر کا چور۔۔۔ پوری دنیا میں ماڈل”۔ علاوہ ازیں بینروں پر خطے میں ایرانی مداخلت کی مذمت اور وہاں سے انخلا کے مطالبوں پر مبنی نعرے بھی درج تھے، جن میں خاص طور سے شام، غزہ (فلسطین) اور لبنان شامل ہیں۔ (۔۔۔)