ایرانی مظاہروں کے دوران حوزہ (شعیہ مسلکی مدرسہ) اور "بسیج” کے دفاتر نشانے پر
ہلاکتوں کی تعداد پر اختلاف، اور "پاسداران” کا اعلان کہ "اگر ضروری ہوا تو مداخلت کریں گے” لندن: عادل السالمی – واشنگٹن: ہبہ قدسی کل ایران میں احتجاجی مظاہروں میں تیزی آئی ہے، مظاہرین نے صدر حسن روحانی کی جانب سے پرسکون رہنے کے مطالبے کو نظر انداز کر دیا ہے جو کہ [&h
ہلاکتوں کی تعداد پر اختلاف، اور "پاسداران” کا اعلان کہ "اگر ضروری ہوا تو مداخلت کریں گے”

لندن: عادل السالمی – واشنگٹن: ہبہ قدسی
کل ایران میں احتجاجی مظاہروں میں تیزی آئی ہے، مظاہرین نے صدر حسن روحانی کی جانب سے پرسکون رہنے کے مطالبے کو نظر انداز کر دیا ہے جو کہ حوزہ (شیعہ مسلکی مدرسہ) اور "بسیج” (ملیشیا) کے دفاتر پر حملہ کئے جانے کے ایک روز بعد ہے، جبکہ مظاہرین کے درمیان ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد میں متضاد رپورٹ پائی جاتی ہیں۔ (۔۔۔)
کل حکومت نے کئی شہروں میں مسلسل تیسرے روز بھی مدارس بند رہنے کا اعلان کیا ہے۔
ذرائع ابلاغ اور سوشل نیٹ ورک سائیٹ پر نشر کردہ ویڈیو کلپس میں مظاہرین کو عوامی عمارتوں پر حملہ کرتے دکھایا گیا ہے جیسے کہ توزیرکان میں "حوزہ” کے مذہبی مراکز، "بسیج” (پاسداران انقلاب سے منسلک ملیشیا فورس) کے ماتحت بینک اور پولیس کی گاڑیوں کو نذر آتش کرتے دکھایا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق گورنریٹ اصفہان کے علاقے نجف میں ایک پولیس اہلکار جان بحق اور دیگر تین زخمی ہوگئے ہیں۔ جبکہ مظاہرین کی ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے، جیسا کہ سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 10 ہے، جبکہ دیگر ذرائع نے کم سے کم 15 مظاہرین کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ وسیع پیمانے پر احتجاج اور بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کے باوجود "پاسداران انقلاب” کے ترجمان رمضان شریف نے بیان دیا ہے کہ پولیس "صورتحال پر قابو پائے ہوئے ہے”۔ انہوں نے مزید کہا کہ صورتحال کی نگرانی کی جارہی ہے اور اگر ضرورت پڑی تو "پاسداران” اس میں داخل ہونگے۔ (۔۔۔)