زیتون کی جنگ اور داخل ہونے سے پہلے ترکی حملے

دمشق کا عفرین آپریشن کی خبر ملنے کی نفی، امریکی اور روسی مذاکرات اور انتظامیہ ابو الضہور ہوائی اڈہ پر قبضہ انقرة: سعيد عبد الرازق – ماسكو: طہ عبد الواحد کل ترکی نے شمالی شام کے عفرین علاقہ میں زبردست فضائی حملہ اور توپ کے گولا بارود کے ذریعہ زیتون کی […]

زیتون کی جنگ اور داخل ہونے سے پہلے ترکی حملے
دمشق کا عفرین آپریشن کی خبر ملنے کی نفی، امریکی اور روسی مذاکرات اور انتظامیہ ابو الضہور ہوائی اڈہ پر قبضہ

انقرة: سعيد عبد الرازق – ماسكو: طہ عبد الواحد

کل ترکی نے شمالی شام کے عفرین علاقہ میں زبردست فضائی حملہ اور توپ کے گولا بارود کے ذریعہ زیتون کی ٹہنی نامی کاروائی کا آغاز کر دیا ہے اور ترکی وزیر اعظم ابن علی یلدرم نے کہا کہ یہ زمینی طور پر داخل ہونے کی تمہید ہے جبکہ ترکی کی طرف سے مدد کردہ شام کی آزاد فورسز نے شہر کی طرف پیش قدمی کی ہے۔

اسی سلسلہ میں ایک کردی رہنماء نے "الشرق الاوسط” کو بتایا ہے کہ ماسکو نے ترکی کو جہاز استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے اور ادلب کے ابو الضہور نامی اس ہوائی اڈہ سے شامی مخالف جماعتوں نے واپسی اختیار کر لی ہے جس پر شامی حکومت کا قبضہ تھا۔(۔۔۔)

روس نے اس کاروائی کے سلسلہ میں اپنے افسوس کا اظہار کیا ہے اور روس کے وزیر خارجہ اور امریکی وزیر خارجہ کے درمیان ہونے والی گفتگو میں صبر کرنے کی دعوت دی ہے۔(۔۔۔) جبکہ جاویش اوگلو نے اعلان کیا ہے کہ دمشق کو تحریری طور پر اس کاروائی کی اطاع دے دی گئی ہے اور شامی انتظامیہ نے اس کی نفی کی ہے اور اس ترکی حرکت کو ظلم زیادتی سے تعبیر کیا ہے۔

اتوار – 23 جمادی الاول 1440 ہجری – 21 جنوری 2018ء  شمارہ نمبر: (14299)