برلن میں سنی اور علوی مذاکرات کا خلاصہ 11 چیزوں پر مشتمل ایک دستاویز

لندن: ابراہیم حمیدی برلن میں غیر اعلانیہ مذاکرات کے بعد عراق اور شام کے دینی اور قومی رہنماء اور شخصیات نے گیارہ چیزوں پر مشتمل ایک خلاصہ کے سلسلہ میں معاہدہ کیا ہے جن میں شام کی وحدت اور انفرادی محاسبہ کی بات کا ذکر ہے اور شامی سماج میں درمیانی […]

برلن میں سنی اور علوی مذاکرات کا خلاصہ 11 چیزوں پر مشتمل ایک دستاویز

لندن: ابراہیم حمیدی

برلن میں غیر اعلانیہ مذاکرات کے بعد عراق اور شام کے دینی اور قومی رہنماء اور شخصیات نے گیارہ چیزوں پر مشتمل ایک خلاصہ کے سلسلہ میں معاہدہ کیا ہے جن میں شام کی وحدت اور انفرادی محاسبہ کی بات کا ذکر ہے اور شامی سماج میں درمیانی جماعت کے معاہدے برعکس ہوئے ہیں لیکن شرکت کرنے والوں کی یہ امید ہے کہ شام کے مستقبل کے لیے دستور سے اوپر شامی حکومت اور مخالفین سے دور رہ کر ایک دستاویز ہونی چاہئے۔

اس مذاکرات میں کرد، درزی، عیسائی اور عشائر کے سربراہ اور علوی جماعت کے دینی افراد شریک ہوئے تھے اور برلین کی ملاقاتوں سے قبل بعض ملاقاتیں ترکی اور بیروت میں ہوئیں تاکہ ایک خود مختار جرمن ادارہ منظم کیا جائے جو اس کاروائی کی ترتیب کر سکے اور اس کے ذریعہ 21 نومبر کو گواہوں کی موجودگی میں ایک دستاویز پر معاہدہ ہو سکے۔(۔۔۔)

اتوار – 23 جمادی الاول 1440 ہجری – 21 جنوری 2018ء  شمارہ نمبر: (14299)